Islam Times:
2026-06-03@01:56:37 GMT

امریکہ پر اسرائیلی لابی کے کنٹرول کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

امریکہ پر اسرائیلی لابی کے کنٹرول کی کہانی

اسلام ٹائمز: سابق امریکی افسر کے مطابق چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

پریس ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر نے کہا ہے کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی ادارے اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں۔ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے امریکی جہاز میں سے اتفاقی طور پر زندہ بچ جانے والے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر فلپ ٹورنی نے 1967 کے اسرائیلی حملے کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں "وسیع پیمانے پر واقعہ کی پردہ پوشی" کے لئے وارننگ دی گئی تھی۔ اس حملے کی تفصیل کے علاوہ ٹورنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اداروں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکی حکومت نے سچائی بتانے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ 

پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹورنی نے وضاحت کی کہ یو ایس ایس لبرٹی 7 جون 1967 کو جزیرہ نما سینا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تعینات تھا، اور اسے شروع سے ہی اسرائیلی جاسوسی طیاروں نے دیکھ لیا تھا، صیہونی ستارے کے نشان والے طیارے آئے اور اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے ہمارے لئے دوستی کی علامت ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خطے میں داخل ہونے سے پہلے دو بار تباہ کن جہاز کے اسکارٹ مہیا کرنے کے لئے کہا، لیکن دو بار ہی مسترد کردیا گیا کہ جہاز پر امریکی پرچم لہرا رہا ہے اور آپ بین الاقوامی پانیوں میں ہیں، لہذا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، لیکن اسرائیلی طیاروں نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا۔

ٹورنی کے مطابق اسرائیلی جاسوس پروازیں کئی دن تک جاری رہیں، طیارے اتنے نیچے اترے تھے کہ ڈیک ہل جاتا تھا اور ہمارا اسٹاف اسرائیلی پائلٹوں کو دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایک منظم حملہ تھا، یہ اتفاق نہیں تھا، پہلے تین سیکنڈ میں، تمام اینٹینا اور مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا گیا، ہماری مشین گنیں اور توپیں بھی غیر فعال ہوگئیں۔ سابق امریکی افسر کا کہنا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں سے فضائی مدد بھیجی گئی تھی، لیکن پھر انہیں حکم آیا کہ لبرٹی کی مدد نہ کریں، اڈے پر واپس آجائیں، ہم اپنے اتحادی اسرائیل کو شرمندہ نہیں کرینگے، یہ فیصلہ جہاز کو بمباری اور میزائلوں سے نشانہ بنوانے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

ٹورنی نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد جہاز کو ڈبو کر مصر کیخلاف امریکہ کو تیسری جنگ عظیم میں شامل کرنے اور ان زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جہاز ڈوب جاتا تو 294 افراد ہلاک ہوجاتے اور تیسری جنگ عظیم شروع ہوتی، خدا کی مدد سے ہم بچ گئے اور ایک عالمی تباہی رک گی، اسی وقت میں نے اپنے 34 بھائیوں کو مرتے ہوئے دیکھا، یہ الزامات 1967 کے واقعے تک محدود نہیں مصری قیدیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ انہوں نے سچائی کو دبانے میں امریکی حکومت کے کردار کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ زندہ بچ جانے والے امریکی اسٹاف کی گواہی کو تبدیل یا چھپا دیا گیا ہے اور انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خاموش رہنے کے لئے کہا گیا تھا یا جیل یا اس سے بھی بدتر کی دھمکی دی گئی، ہر کوئی جانتا تھا کہ اس بدتر کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے بارے میں ٹورنی نے کہا کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی لابی، اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں، وہ لابی کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتے ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ قانون ساز کسی نہ کسی طرح اسرائیل کے مقروض ہیں، یہ مداخلت امریکی سیاست میں ایک کینسر بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حل بدعنوان سیاستدانوں کا خاتمہ اور اسرائیل کو ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر شناخت کروانا ہے۔

سابق امریکی افسر نے حالیہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی اور مالی تعلقات کا جائزہ لینے اور اسے ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ امریکی حکومت ایک بار پھر امریکی عوام کے اختیار میں آ جائے۔ ٹورنی نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی پر اسرائیل کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ مشرق وسطیٰ میں لامتناہی جنگوں میں الجھا ہوا ہے اور پہلی خلیجی جنگ سے لے کر آج تک اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہوا ہے۔ انہوں نے "گریٹر اسرائیل" منصوبے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام، عراق اور اردن سمیت آس پاس کے تمام علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے، یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، اور صیہونی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

ٹورنی نے بیروت بم دھماکے سمیت دیگر تاریخی مثالوں کا حوالہ دیا، جس میں 242 امریکی میرینز ہلاک ہوئے تھے، اور اسے "اسرائیل کے لئے ایک قربانی" قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب اسرائیل سمندر میں امریکیوں کو مار سکتا ہے تو صیہونیوں کے سامنے کوئی حد نہیں رہتی اور ان کے لئے کوئی بھی کارروائی ممکن ہے۔ آخر میں ٹورنی نے پالیسی سازوں اور رائے عامہ کو متنبہ کیا کہ جب تک امریکہ پر اسرائیل کا اثر و رسوخ باقی گا، امریکیوں کی سلامتی اور آزادی کی کوئی ضمانت نہیں، امریکہ پر اسرائیلی قبضہ ختم کروانے کا واحد راستہ بدعنوان سیاستدانوں کو ہٹانا اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیاسی اور مالی پر اسرائیل کے اسرائیل کو کہ اسرائیل کہ امریکی کرتے ہوئے نے کہا کہ کہا کہ اس ٹورنی نے انہوں نے غیر ملکی دیا گیا تھا کہ کے لئے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان