Jasarat News:
2026-07-24@09:05:29 GMT

خیبر پختون خوا میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خیبر پختون خوا اسمبلی میں سہیل آفریدی بھاری اکثریت لے کر وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں اور انہوں نے گورنر کے پی کے سے وزارت اعلیٰ کا حلف بھی لے لیا ہے۔ اگرچہ وفاقی حکومت اسٹیبلشمنٹ نے سہیل آفریدی کے تقرر پر اپنے تحفظات اور خدشات یا الزام تراشی بھی کی کہ ان کا تقرر صوبہ میں دہشت گردی کی جنگ کو متاثر کرے گا۔ کچھ اس طرح کا تاثر بھی دیا گیا کہ وفاقی حکومت وزیر اعلیٰ کے تقرر کو طاقت کی بنیاد پر روکے گی۔ اس خدشے کو اس وقت تقویت ملی جب گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا استعفا قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس پر تاخیری حربے اختیار کیے اور دوسری طرف ڈی جی آئی ایس پی آر کی پشاور میں ہونے والی پریس کانفرنس نے ماحول میں اور زیادہ شدت پیدا کر دی اور یہ تاثر ملا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے تقرر کو کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا اور پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی سمیت سابق وزیر اعلیٰ نے مکمل حمایت کے ساتھ نہ صرف بانی پی ٹی آئی کا فیصلہ قبول کیا بلکہ سہیل آفریدی کو بھاری اکثریت سے وزیر اعلیٰ منتخب کیا ہے۔ اس انتخاب سے اس تاثر کی بھی نفی ہوئی کہ عمران خان کے اس فیصلے کے بعد پارٹی بری طرح تقسیم ہو گئی اور نئے وزیر اعلیٰ کو کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی کوئی ایسا تاثر نہیں چھوڑا جس سے یہ محسوس ہو کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے فیصلے سے خوش نہیں یا نئے وزیر اعلیٰ کی حمایت نہیں کریں گے۔ یہ جو خدشہ تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو توڑا جائے گا، وہ بھی غلط ثابت ہوا اور پارٹی نئے وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ بنیادی طور پر بانی پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں فوجی آپریشن کے سخت مخالف ہیں اور ان کا موقف ہے کہ دہشت گردی کا علاج فوجی آپریشن سے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت ہی سے ممکن ہو سکے گا۔ عمران خان تواتر کے ساتھ علیٰ امین گنڈاپور کو یہ کہتے رہے کہ وہ کسی بھی صورت صوبے میں فوجی آپریشن کی حمایت نہ کریں۔ لیکن لیکن علی امین گنڈا پور فوجی آپریشن کی مخالفت تو نہ کر سکے البتہ وہ اسے ایک ٹارگٹڈ آپریشن کا نام دیتے رہے جو بانی پی ٹی آئی کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔ اسی طرح عمران خان کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ علی امین گنڈاپور کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ مضبوط ہیں وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سہیل آفریدی کا تقرر بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا اور لوگ سمجھتے تھے وہ ناتجربہ کار ہیں اور اس اہم منصب کے لیے وہ اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔ ایک اہم بات یہ بھی محسوس کی گئی کہ نئے وزیر اعلیٰ کے تقرر سے پارٹی میں باہمی اختلافات کا خاتمہ ہوا اور تمام گروپوں نے کھل کر پارٹی کے فیصلے کے ساتھ خود کو کھڑا کیا۔ نومنتخب وزیر اعلیٰ کا تعلق مڈل کلاس طبقے سے ہے اور وہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں اور پارٹی میں مزاحمت کی سیاست کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ان کی پہلی تقریر میں دیکھا گیا جہاں انہوں نے کھل کر کہا کہ یہاں کسی قسم کے فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کی جائے گی اور اگر صوبائی حکومت یا صوبائی اسمبلی سے ہٹ کر فوجی آپریشن کیا گیا تو اس کی بھرپور مزاحمت ہمارا حق بنتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ٹکرائو پیدا کر سکتا ہے۔ کیونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں یہ واضح کہا گیا ہے کہ کسی بھی سطح پر ٹی ٹی پی یا افغانستان سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے اور دہشت گردی سے طاقت سے نمٹاجائے گا۔ عمران خان نے ایک بار پھر ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر کہا ہے کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں بلکہ اور زیادہ حالات کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں افغانستان سے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور اسی کی مدد سے دہشت گردی کا علاج بھی تلاش کیا جائے۔ مسئلہ محض پی ٹی آئی کا نہیں ہے بلکہ صوبے میں فوجی آپریشن کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے بھی تحفظات ہیں۔ اس لیے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف اگر فوجی آپریشن کرنا ہے تو اس فیصلے کو سیاسی طور پر تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ اصولی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو مل بیٹھ کر باہمی اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہمیں فوجی آپریشن یا مذاکرات میں سے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح نو منتخب وزیر اعلیٰ کو بھی وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی سیاست اختیار کرنے کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ صوبے کے معاملات کو اتفاق رائے سے چلایا جائے۔ لیکن اس کی ذمے داری جہاں صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے وہیں ایک بڑی ذمے داری وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر بھی ہے کہ وہ صوبے میں زبردستی فیصلے کرنے کی کوشش سے گریز کریں اور جو بھی فیصلہ کیا جائے اس میں صوبائی حکومت کی حمایت شامل ہونی چاہیے۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی حکومت کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر صوبے کے حالات بہتری کے بجائے اور زیادہ بگاڑ کی طرف جائیں گے اور اس کا ایک نتیجہ گورنر راج کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ گورنر راج بھی مسئلے کا حل نہیں ہوگا بلکہ اس سے ماحول اور زیادہ تلخ ہوگا جو پہلے سے جاری دہشت گردی میں اور اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے فوجی آپریشن پر جذبات کے بجائے ہوش کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ متاثر نہ ہو۔ صوبائی حکومت اور بانی پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ افغانستان کے حالات پاکستان کے حق میں نہیں ہیں اور جس طرح سے افغانستان کا انحصار بھارت پر بڑھتا جا رہا ہے وہ پاکستان کے لیے یقینی طور پر خطرہ ہوگا۔ اسی طرح افغانستان کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے مسئلے پر کوئی تعاون نہیں کیا اور افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس لیے جو لوگ افغانستان یا ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں ان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اب تک افغانستان اور ٹی ٹی پی نے پاکستان کے تحفظات پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو صوبائی حکومت کے خلاف بلا وجہ کا محاذ بنانے کی ضرورت نہیں ہے، اگر صوبائی اسمبلی نے سہیل آفریدی پر بطور وزیراعلیٰ اعتماد کیا ہے اس فیصلے کو قبول کیا جانا چاہیے اور یہی سیاست اور جمہوریت کے حق میں بہتر ہوگا۔ خیبر پختون خوا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر صوبے میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی، قبائلی عمائدین اور میڈیا کے ساتھ ایک گول میز کانفرنس کرے اور اس میں یہ فیصلہ کیا جائے کہ ہمیں آپریشن یا مذاکرات میں سے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور اگر بات مذاکرات کی طرف جاتی ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا اور اس کی ناکامی کی صورت میں پھر اگلا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت صوبے میں دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے اور خاص طور پر بھارت اور افغانستان کے باہمی گٹھ جوڑ نے صوبے کی سیکورٹی کو ہر سطح پر چیلنج کیا ہوا ہے۔ اگر ہم نے حالات پر قابو نہ پایا یا کوئی غیر معمولی اقدامات نہ کیے تو صورتحال اور زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ افغانستان اور ٹی ٹی پی سے جو بھی جنگ لڑنی ہے سب سے پہلے ہمیں صوبے کے داخلی معاملات کا جائزہ لے کر ایک موثر اور مضبوط مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں فوجی ا پریشن فوجی ا پریشن کی بانی پی ٹی ا ئی خیبر پختون خوا نئے وزیر اعلی صوبائی حکومت راستہ اختیار پی ٹی ا ئی کے سہیل ا فریدی اختیار کرنا کرنا چاہیے پاکستان کے اور زیادہ کیا جائے علی امین کی حمایت ٹی ٹی پی جائے گا نہیں کی کے ساتھ کے تقرر ہیں اور کے خلاف کسی بھی کے لیے

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن