data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251023-08-28
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق جسٹس محمد علی مظہرنے ریمارکس دیے کہ سب وکلا فل کورٹ مانگ رہے ہیں مگر طریقہ کارکوئی نہیں بتارہا جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے ہم کان اور آنکھیں بند کرکے کسی کو ریلیف نہیں دے سکتے۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کے وکیل خواجہ احمد احسن نے دلائل میں استدعا کی کہ 26ویں آئینی ترمیم سے پہلے والا 16 رکنی فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگربینچ کیس سن نہیں سکتا توآرڈرکیسے دے سکتا ہے؟ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 191 اے میں کوئی قدغن نہیں ہے، یہ پروسیجرل آرٹیکلزہیں یہ آرٹیکل بینچز پر تو قدغن لگاتے ہیں، لیکن عدالت عظمیٰ پر نہیں، ہم ان آرٹیکلزکوایسے پڑھ رہے ہیں جیسے یہ آرٹیکل مکمل طورپرقدغن لگاتے ہیں۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ آپ اپنی درخواست کے ذریعے مرکزی ریلیف مانگ رہے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ وکلا فل کورٹ سب مانگ رہے ہیں مگرطریقہ کارکوئی نہیں بتا رہا، بینچ میں مزیدججزشامل کرنے کا اختیارسپریم جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے، ہم ججزشامل نہیں کرسکتے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے تاثر دیا جا رہا ہے ہم الگ ججز اور دوسرے والے الگ ججز ہیں، تمام ججز کو تسلیم کرنا پڑے گا، عدالت عظمیٰ کے ججز کا کام آئین کا تحفظ کرنا، آئین کا دفاع کرنا اور آئین کی تشریح کرنا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔

چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟

عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن