ٹرمپ اور چینی صدر کی ملاقات آئندہ ہفتے متوقع، تجارتی تعلقات پر بات چیت کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی اور چینی صدور کے درمیان آئندہ ہفتے اہم ملاقات کا امکان ہے جس میں دو طرفہ تجارتی تعلقات سمیت دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کے دوران چین کے حالیہ معاشی اقدامات پر تشویش کا اظہار کریں گے۔ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں چین کے کچھ معاشی اقدامات نے واشنگٹن کو پریشان کیا ہے۔
دوسری جانب چینی سفارتخانے نے امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تجارت کے حوالے سے غلط طرزِ عمل ترک کرے اور تعلقات کو بگاڑنے سے گریز کرے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ شفاف اور منصفانہ تجارتی اصولوں پر یقین رکھتا ہے اور واشنگٹن کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں متوقع ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔