کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن میں کارروائی، 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
کوئٹہ:۔ سیکورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی، مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔
فائرنگ سے ایک راہگیر جاں بحق اور پکنک کے لیے آنے والے 8 افراد بھی زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کے عملے نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن پہاڑی سلسلے میں مشتبہ مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر فورسز نے برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی ڈرون کے ذریعے آپریشن کرکے 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک راہگیر نقیب اللہ بھی جاں بحق ہوگیا۔ جبکہ چلتن پہاڑی علاقے میں پکنک کے لیے آنے والے 8 افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ نعشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا مزید کارروائی متعلقہ انتظامیہ کررہی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔