وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور ڈیولپمنٹ پلان دوسرے فیز کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور ڈیولپمنٹ پلان کے دوسرے فیز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس سے شہر میں ترقی کا نیا دورشروع ہوگا، شہر کی 6 ہزار 284 گلیوں کی مکمل اپ گریڈیشن کی جائے گی، آئندہ سال 30 جون تک لاہور میونسپل کارپوریشن کی 5,798 اورواسا کی 486 گلیوں کو آپ گریڈ کیاجائے گا ۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور ڈیولپمنٹ فیز ٹو سے متعلق اجلاس میں ضروری ہدایات جاری کی گئیں، اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور لاہور کا ہر محلہ روشن اور بہتر بنانے کے لیے مرحلہ وار ماہانہ ورک پلان پیش کیاگیا۔ وزیر اعلیٰپنجاب نے واضح ہدایات جاری کیںکہ لاہور کی ترقی میں معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔