ٹیکس چوری کرنیوالے نجی اسپتالوں اور اداروں میں افسران تعینات
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ایف بی آر نے اصل آمدن معلوم کرنے کیلئے پچاس کے قریب نجی اسپتالوں میں ان لینڈ افسران بھیج دیے
مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث پونے دو لاکھ کے لگ بھگ لوگوں اور اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے ،سینئر افسر کی گفتگو
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں مبینہ طور پر ٹیکس چوری میں ملوث اور ٹیکس بچانے کیلئے اصل آمدنی چھپانے والے بڑے نجی اسپتالوں اور اداروں میں ٹیکس افسران تعینات کرنا شروع کردیٔے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق ابتدائی طور پر ایف بی آر نے مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن کم ظاہر کرنے کے رجحان کے تدارک کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے 50 نجی کمرشل اسپتالوں میں ان لینڈ ریونیو افسران تعینات کر دیے ہیں۔اس بارے میں ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایف بی آر نے مبینہ ٹیکس ?چوری میں ملوث پونے دو لاکھ کے لگ بھگ لوگوں اور اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان افراد اور اداروں کو نوٹس جاری کئے جارہے ہیں اور ابتدائی ٹیکس پروفائل سمیت تھرڈ پارٹی انفارمیشن کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر چھان بین میں جو بڑے ادارے کم آمدنی ظاہر کررہے ہیں یا قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروارہے ہیں۔ایف بی آر کے افسر نے کہا کہ ایسے لوگوں اور اداروں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے اور یہ اقدام ٹیکس سال 2025 کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد کیا گیاہے جن سے ظاہر ہوا کہ صحت کے منافع بخش شعبے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ 3 لاکھ 19 ہزار 572 ڈاکٹروں میں سے صرف 1 لاکھ 30 ہزار 243 ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں جبکہ ان میں سے بھی محض 56 ہزار 287 ڈاکٹروں نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ گوشوارے جمع کرانے والوں میں سے تقریباً 62 فیصد ڈاکٹروں نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی جس پر ایف بی آر نے اس شعبے میں آمدن کی درست رپورٹنگ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ایف بی آر حکام کے مطابق ان لینڈ ریونیو کے افسران کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 175سی کے تحت اسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ طبی سہولیات کی فراہمی، مریضوں سے وصول کی جانے والی فیس اور رسیدوں کے اجرا کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے اور اصل آمدن اور ظاہر کردہ آمدن کے درمیان فرق کی نشاندہی ہو سکے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور تمام آمدنی رکھنے والے طبقات کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام کو یقینی بنانا ہے۔حکام کے مطابق ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی سطح پر نوٹسز بھی جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کریں۔پس منظر کے طور پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایف بی آر گزشتہ چند برسوں سے ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور خدمات کے شعبوں کے بعد اب صحت جیسے حساس مگر منافع بخش شعبے کو بھی مو?ثر ٹیکس نگرانی کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر نے اور اداروں ٹیکس چوری کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔