Juraat:
2026-06-03@00:53:18 GMT

ٹیکس چوری کرنیوالے نجی اسپتالوں اور اداروں میں افسران تعینات

اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT

ٹیکس چوری کرنیوالے نجی اسپتالوں اور اداروں میں افسران تعینات

ایف بی آر نے اصل آمدن معلوم کرنے کیلئے پچاس کے قریب نجی اسپتالوں میں ان لینڈ افسران بھیج دیے
مبینہ ٹیکس چوری میں ملوث پونے دو لاکھ کے لگ بھگ لوگوں اور اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے ،سینئر افسر کی گفتگو

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں مبینہ طور پر ٹیکس چوری میں ملوث اور ٹیکس بچانے کیلئے اصل آمدنی چھپانے والے بڑے نجی اسپتالوں اور اداروں میں ٹیکس افسران تعینات کرنا شروع کردیٔے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق ابتدائی طور پر ایف بی آر نے مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن کم ظاہر کرنے کے رجحان کے تدارک کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے 50 نجی کمرشل اسپتالوں میں ان لینڈ ریونیو افسران تعینات کر دیے ہیں۔اس بارے میں ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایف بی آر نے مبینہ ٹیکس ?چوری میں ملوث پونے دو لاکھ کے لگ بھگ لوگوں اور اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان افراد اور اداروں کو نوٹس جاری کئے جارہے ہیں اور ابتدائی ٹیکس پروفائل سمیت تھرڈ پارٹی انفارمیشن کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر چھان بین میں جو بڑے ادارے کم آمدنی ظاہر کررہے ہیں یا قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروارہے ہیں۔ایف بی آر کے افسر نے کہا کہ ایسے لوگوں اور اداروں کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے اور یہ اقدام ٹیکس سال 2025 کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد کیا گیاہے جن سے ظاہر ہوا کہ صحت کے منافع بخش شعبے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد انتہائی کمزور ہے۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ 3 لاکھ 19 ہزار 572 ڈاکٹروں میں سے صرف 1 لاکھ 30 ہزار 243 ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں جبکہ ان میں سے بھی محض 56 ہزار 287 ڈاکٹروں نے ٹیکس سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ گوشوارے جمع کرانے والوں میں سے تقریباً 62 فیصد ڈاکٹروں نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی جس پر ایف بی آر نے اس شعبے میں آمدن کی درست رپورٹنگ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ایف بی آر حکام کے مطابق ان لینڈ ریونیو کے افسران کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 175سی کے تحت اسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ طبی سہولیات کی فراہمی، مریضوں سے وصول کی جانے والی فیس اور رسیدوں کے اجرا کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے اور اصل آمدن اور ظاہر کردہ آمدن کے درمیان فرق کی نشاندہی ہو سکے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور تمام آمدنی رکھنے والے طبقات کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام کو یقینی بنانا ہے۔حکام کے مطابق ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں کو نجی سطح پر نوٹسز بھی جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کریں۔پس منظر کے طور پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایف بی آر گزشتہ چند برسوں سے ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور خدمات کے شعبوں کے بعد اب صحت جیسے حساس مگر منافع بخش شعبے کو بھی مو?ثر ٹیکس نگرانی کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر نے اور اداروں ٹیکس چوری کے مطابق

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا