بہار کالونی ،جمشید روڈ،بلند و بالا غیر قانونی تعمیرات بلا روک ٹوک جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ایس بی سی اے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے،عملہ خاموش تماشائی بن گیا
عمارتوں کی تعمیر سے نکاسی آب، روشنی،ہوا کے مسائل جنم لے رہے ہیں،علاقہ مکین
کراچی کے علاقے بہار کالونی، جمشید روڈ کے اطراف میں تنگ گلیوں کے درمیان بلند و بالا غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، جس پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق بہار کالونی میں طویل عرصے سے غیر قانونی تعمیرات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے، جبکہ متعلقہ ادارہ اس صورتحال پر مکمل طور پر خاموش ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پلاٹ نمبر 184سابقہ پلاٹ نمبر 28/3) اور پلاٹ نمبر 185سابقہ پلاٹ نمبر 28/4) پر قوانین و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جو کسی بھی ممکنہ حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تنگ گلیوں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے نہ صرف نکاسی آب، روشنی اور ہوا کے مسائل جنم لے رہے ہیں بلکہ کسی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اداروں کی رسائی بھی ناممکن ہو سکتی ہے۔مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا عملہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے، جس سے بلڈرز کو مزید حوصلہ مل رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے اعلی حکام، کمشنر کراچی اور ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور علاقے میں جاری غیر قانونی عمارتوں کو قانون کے مطابق مسمار کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: غیر قانونی تعمیرات پلاٹ نمبر
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔