امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فی الحال شکاگو، لاس اینجلس اور پورٹ لینڈ میں نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کرنے کا اپنا منصوبہ مؤخر کر رہے ہیں۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب عدالتی رکاوٹوں کے باعث ان کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئیں، سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیشنل گارڈ کو وقتی طور پر واپس بلایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیشنل گارڈز پر حملے کے بعد، امریکا میں افغان شہریوں کی گرفتاریوں میں اضافہ

’جب جرائم ایک بار پھر بڑھنا شروع ہوں گے تو ہم واپس آئیں گے، شاید کہیں زیادہ مختلف اور مضبوط انداز میں، یہ صرف وقت کی بات ہے۔‘

اس سے قبل لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کے اہلکار پہلے ہی واپس جا چکے تھے، جہاں صدر ٹرمپ نے رواں سال جرائم اور امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کے تحت دستے تعینات کیے تھے۔

US President #DonaldTrump has said that his administration is withdrawing #NationalGuard troops from #chicago, #LosAngeles, and #Portland, while warning that federal forces could be redeployed if crime rises again pic.

twitter.com/ftZo2lyogz

— TheSouthAsianTimes (@TheSATimes) January 1, 2026

شکاگو اور پورٹ لینڈ میں بھی دستے بھیجے گئے تھے، تاہم قانونی چیلنجز کے باعث وہ کبھی سڑکوں پر تعینات نہ ہو سکے۔

ڈیموکریٹک قیادت والے شہروں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے صدر ٹرمپ کے فیصلے کو تقریباً ہر مرحلے پر قانونی مشکلات کا سامنا رہا۔

مزید پڑھیں: امریکا: افغانستان سمیت 19 غیر یورپی ممالک کے شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل

دسمبر میں امریکی سپریم کورٹ نے شکاگو کے علاقے میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے تحت نیشنل گارڈ تعینات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اگرچہ یہ حتمی فیصلہ نہیں تھا، تاہم اسے صدر ٹرمپ کی پالیسی کے لیے ایک غیر معمولی عدالتی دھچکا قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں ایک اور افغان شہری گرفتار، داعش کی حمایت کا الزام

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اٹارنی جنرل برائن شوالب نے 2 ہزار سے زائد نیشنل گارڈ اہلکاروں کی تعیناتی روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اسی طرح اوریگن میں ایک وفاقی جج نے ریاست میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو مستقل طور پر روک دیا۔

کیلیفورنیا میں عدالتی فیصلے کے بعد 15 دسمبر تک لاس اینجلس کی سڑکوں سے نیشنل گارڈ کے دستے ہٹا لیے گئے تھے، تاہم ایک اپیلٹ عدالت نے اس حکم کے اس حصے کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا جس کے تحت نیشنل گارڈ کا کنٹرول واپس گورنر گیون نیوسم کو دیا جانا تھا۔

مزید پڑھیں:

منگل کے روزعدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ وہ اب اس حصے پر عمل درآمد روکنے کی درخواست واپس لے رہی ہے، جس کے بعد کیلیفورنیا نیشنل گارڈ کے دستوں کا مکمل کنٹرول دوبارہ ریاستی حکومت کو منتقل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے جون میں نیشنل گارڈ کو وفاقی کنٹرول میں لیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پورٹ لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ شکاگو کیلیفورنیا لاس اینجلس نیشنل گارڈ وفاقی کنٹرول

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پورٹ لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ شکاگو کیلیفورنیا لاس اینجلس نیشنل گارڈ وفاقی کنٹرول میں نیشنل گارڈ نیشنل گارڈ کے لاس اینجلس کی تعیناتی کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری