رابی پیرزادہ کے اپنی شادی اور خلع سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی:
شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی گلوکارہ رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اپنی ذاتی زندگی سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے پہلی بار انکشاف کیا کہ وہ شادی شدہ تھیں تاہم بعد میں انہوں نے خلع لے لی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات پہلی بار عوام کے سامنے لا رہی ہیں اور اس سے قبل کبھی اپنی شادی یا علیحدگی پر بات نہیں کی۔
رابی پیرزادہ کے مطابق وہ کسی کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتیں تاہم پیش آنے والے حالات کے بعد خلع کا فیصلہ کیا جو دونوں فریقین کی تکلیف کے خاتمے کا باعث بنا۔
ایک اور انکشاف میں رابی پیرزادہ نے بتایا کہ انہوں نے والدین کے دباؤ میں آ کر وٹہ سٹہ کی شادی کی تھی جس پر اب انہیں افسوس ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی شادیوں میں اکثر مسائل جنم لیتے ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں اداکاری اور گلوکاری سے وابستہ رہنے والی رابی پیرزادہ اب ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر، مصورہ اور خطاط کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ رابی پیرزادہ اس وقت اپنا بیوٹی برانڈ چلا رہی ہیں اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں۔
خیال رہے کہ رابی پیرزادہ حال ہی میں ایک بار پھر نکاح کے بندھن میں بندھ گئی ہیں جس کی تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رابی پیرزادہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔