Express News:
2026-07-24@08:38:48 GMT

بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کی کوششیں

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

چائینہ کی آبادی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی آبادی 2100میں نصف رہ جائے گی۔ چائینہ اپنی آبادی کی انجینئرنگ کر رہا ہے ۔ اور اس پلاننگ پر پچھلی کئی دہائیوں سے عمل پیرا ہے ۔

اس وقت چین کی آبادی تقریباً 1.4بلین ہے جب کہ 2050میں یہی آبادی کم ہو کر 1.3بلین ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق 2100 میں چین کی آبادی 770ملین رہ جائے گی یعنی 77کروڑ ۔کیونکہ چین دنیا کی سپر پاور بننا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی آبادی اپنے وسائل کے مطابق منیج کرے ۔ ہر لمحہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک مستقل طور پر پسماندہ رہ جاتے ہیں ۔ ماضی میں چین کی آبادی بہت زیادہ تھی۔ 1979 میں انھوں نے ایک بچے کی پالیسی اپنائی ۔اس طرح آبادی میں کمی آنا شروع ہوگئی لیکن جلد ہی یہ صورتحال سامنے آئی کہ ان کی آبادی میں بوڑھوں کی تعداد بڑھ گئی اور بچوں اور جوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئی ۔

یہ صورت حال تشویشناک تھی چنانچہ سوچ وبچار کے بعد دو بچوں کی پالیسی اپنائی گئی لیکن اس کے باوجود جوانوں کی تعداد کم ہوتی گئی آخر کار 2021میں چین نے تین بچوں کی پالیسی اپنائی ۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک چین نہیں بلکہ بھارت ہے ۔ جس کی آبادی 1.

5ارب ہے ۔ چائینہ اب ایسی پالیسیاں اپنا رہا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کیے جا سکیں۔ صحت کی سہولتوں کی وجہ سے چائینہ کی آبادی میں بوڑھوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے ۔

انڈیا میں بھی آبادی بہت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے وہاں بیروزگار ی بہت زیادہ ہے کیونکہ اس نسبت سے اس کے پاس وسائل کم ہیں ۔ بالکل یہی صورت حال پاکستان کو درپیش ہے ۔ پاکستان میں شرح پیدائش تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پاپولیشن بم کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا بم پاکستان میں پھٹ چکا ہے ۔

جب کہ پاکستان کے وسائل بہت کم ہیں اور جتنے بھی وسائل ہیں بڑھتی ہوئی آبادی ان کو ہڑپ کر رہی ہے ۔ GDPہماری پہلے ہی بہت کم ہے ۔ اس طرح سے ہم ایک خوفناک بحران میں پھنس چکے ہیں کئی دہائیوں سے پاکستان اس تباہ کن مسئلے سے نبٹنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عوام کی بیشتر تعداد کو بڑھتی ہوئی آبادی کے خطرے کا احساس ہی نہیں ہے ۔ اور وجوہات کے علاوہ اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری کم شرح خواندگی ہے ۔ جس ملک میں کروڑوں بچے اسکول سے باہر پھر رہے ہوں اور وہ اپنے گھرکی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوں ، ان کا اور ان کے ملک کا کیا مستقبل ہو سکتا ہے ؟ بنگلا دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔

آج اس کی آبادی پاکستان سے کم ہے ۔ اس نے اپنی آبادی پر ملک کے تمام طبقوں کی مدد سے قابو پایا ۔ جس میں وہاں کے مذہبی طبقے کا کردار قابل ذکر ہے ۔ انھوں نے وہاں کے عوام کو بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی پر کنٹرول کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس کو اپنا کر ملک اور خاندان خوشحال ہوتے ہیں ۔ صحت اور تعلیم کے لیے حکومت کے پاس ضروری وسائل جمع ہو جاتے ہیں اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے ۔

پاکستان میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس نوجوان آبادی بہت زیادہ ہے لیکن یہ نوجوان بیشتر بے ہنر ہیں ۔ لیکن فرض کریں کہ اگر ان کو ٹیکنکل تعلیم دے بھی دی جائے اور انھیں ہنر مند بنا بھی دیا جائے تو اگلے چند برس بعد یہ لوگ ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے ۔ وجہ اس کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہے ۔ ترقی یافتہ ملکوں نے اس صلاحیت کو روبوٹ کی شکل میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو ان کے گھریلو کاموں صفائی اور دوسرے ضروری کاموں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا استعمال زندگی کے مختلف شعبوں میں بڑھتا ہی چلا جائے گا اس طرح انھیں ترقی پذیر ملکوں کی لیبر کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

نہ صرف خام لیبر کی بلکہ ٹیکنیکل صلاحیت کے ہنر مند افراد کی بھی ۔اس طرح ہمارے نوجوان مستقبل میں ملازمت کے لیے ملک سے باہر بھی نہیں جا سکیں گے بلکہ وہ پاکستانی لاکھوں افراد جو ملک سے باہر ہیں وہ بھی پاکستان واپس آنا شروع ہو جائیں گے ۔ تو ذرا سوچیں کیا ہو گا؟ بیرون ملک سے بھیجے گئے زرمبادلہ کا خاتمہ یا کم ہونا ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی وجہ سے ایک خاص طبقے میں جو خوشحالی پائی جاتی ہے اس کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ موجودہ کروڑوں بیروزگار افراد میں مزید لاکھوں افراد کا اضافہ ہو جائے گا۔

ارباب اختیار کو چاہیے اس انتہائی حساس مسئلے پر ابھی سے نہ صرف غور وفکر کریں بلکہ اس پیش آمدہ بحران کا حل بھی تلاش کریں ، ورنہ بہت سوں کی عیاشیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بڑھتی ہوئی آبادی چین کی آبادی بہت زیادہ کی وجہ سے کی تعداد ہو جائے سے باہر جائے گا کے لیے ملک سے

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن