ہانیہ عامر اور سجل علی 2026 میں کس سے شادی کرنے والی ہیں؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری میں 2026 کے شروع ہوتے ہی دو معروف اداکاراؤں ہانیہ عامر اور سجل علی کے ممکنہ شادی کے حوالے سے خبریں زور پکڑ گئیں۔
رپورٹس کے مطابق مشہور اداکارہ ہانیہ عامر ممکنہ طور پر گلوکار و اداکار عاصم اظہر سے شادی کریں گی جبکہ سجل علی مبینہ طور پر اداکار حمزہ سہیل کے ساتھ زندگی کے نئے سفر کا آغاز کریں گی۔
گزشتہ دنوں یوٹیوب شو What’s The 411 میں ان دعووں کا ذکر آیا کہ ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کی شادی پہلے ہوگی، جس کے بعد سجل علی اور حمزہ سہیل کی شادی متوقع ہے۔ تاہم، شو میں کوئی بھی مقررہ تاریخ یا مقام واضح طور پر نہیں بتایا گیا۔
ان خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا: کچھ نے دونوں جوڑوں کو نیک خواہشات پیش کیں جبکہ دیگر نے ان رپورٹس کو افواہوں کے طور پر مسترد کر دیا۔
ہانیہ عامر نے کاسمیٹک سرجری اور بوٹوکس کروا رکھا ہے؟ اداکارہ کھل کر بول پڑیں
سالِ نو پر دوسری شادی، مگر کس سے؟ سجل علی کا بیان سامنے آگیا
سجل علی نے اپنی شادی سے متعلق خبروں پر خاموشی توڑ دی
اگرچہ سجل علی نے شادی کے حوالے سے کسی بھی مخصوص اعلان کی واضح طور پر تردید نہیں کی، انہوں نے کہا ہے کہ وقت کی مناسبت سے میں خود کسی بھی خبر کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا پر کروں گی۔ اسی طرح ہانیہ عامر نے بھی شادی کے حوالے سے کوئی واضح بیان نہیں دیا اور نہ ہی عاصم اظہر نے اس خبر کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
ابھی تک دونوں اداکاراؤں اور ان کے ممکنہ شریکِ حیات کی جانب سے شادی کی تصدیق کے حوالے سےکوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
کیا واقعی یہ شادی کی خبریں حقیقت بنیں گی یا محض سوشل میڈیا و انٹرٹینمنٹ رپورٹس تک محدود رہیں گی؟ شائقین اسی سوال کا جواب بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے حوالے سے ہانیہ عامر سجل علی
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی