ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں ‘صوبائی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور عوامی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقوم کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر لائیوسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی نے منگل کے روز اپنے دفتر میں اسٹیبلشمنٹ آف رولرز گروتھ سینٹر، چوھڑ جمالی ضلع سجاول کے منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سجاول زاہد حسین رند، پروجیکٹ ڈائریکٹر، روڈز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے منصوبے میں شامل تمام افسران سے علیحدہ علیحدہ بریفنگ لی اور منصوبے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر محمد علی ملکانی نے جن محکموں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی، ان کے متعلق متعلقہ صوبائی وزراکو خطوط لکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی پیسے کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو افسر کام نہیں کرنا چاہتا وہ گھر بیٹھ جائے، کیونکہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔