کالے بلدیاتی قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-11-15
لاہور(وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری کی زیر صدارت برادر تنظیمات کا ایک اہم اجلاس منصورہ لاہور میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بابر رشید، صوبائی نائب امیر نصراللہ گورائیہ سمیت مختلف برادر تنظیمات کے مرکزی و صوبائی ذمے داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب حکومت کے متنازعہ اور کالے بلدیاتی قانون کے خلاف جاری تحریک اور 15 جنوری کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی قانون دراصل عوام سے ان کا بنیادی جمہوری حق چھیننے کے مترادف ہے۔ اس قانون کے ذریعے بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے بجائے تمام اختیارات بیوروکریسی کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جو عوامی امنگوں اور آئین کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، مگر حکومت نے اس بنیاد کو کمزور کر کے عوام کو دیوار سے لگا دیا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی اس کالے قانون کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور اس کے خلاف بھرپور، منظم اور پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے 15 جنوری کو ہونے والے عوامی ریفرنڈم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنڈم عوام کی آواز حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے تمام برادر تنظیمات پر زور دیا کہ وہ اس عوامی تحریک میں بھرپور کردار ادا کریں اور گراس روٹ لیول تک عوام کو اس ظالمانہ قانون کے نقصانات سے آگاہ کریں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی منظم قوت اور عوامی رابطہ ہی اس تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ عوام بلدیاتی نظام کے ذریعے اپنے مسائل خود حل کرنے کا حق چاہتے ہیں اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت ہے جو عوام کو ان کا یہ حق دلانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 15 جنوری کے عوامی ریفرنڈم سے قبل صوبہ بھر میں کنونشنز، کارنر میٹنگز، پریس بریفنگز اور رابطہ عوام مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔ آخر میں امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ، جمہوریت کے استحکام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد جاوید قصوری جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔