گھر بیٹھے نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کیسے کرائیں؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے لیے ایک اور سہولت متعارف کرادی جس کے تحت اب وہ گھر بیٹھے اپنے ریکارڈ میں بھی تبدیلی کرا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی شناختی کارڈ سمیت دیگر شناختی دستاویزات فراہم کرنے کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
نادرا نے شہریوں کے لیے کئی سہولتیں متعارف کرائی ہیں۔ ان میں ایک پاک آئی ڈی موبائل ایپ بھی ہے، جس کے ذیعہ صارفین اپنا کام گھر بیٹھے کرا سکتے ہیں۔
اگر کوئی شہری اپنے نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کرانا چاہتا ہے تو وہ بھی نادرا دفتر آئے بغیر گھر بیٹھے صرف پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعہ کرائی جا سکتی ہے۔
اگر آپ بھی اپنے قومی شناختی کارڈ یا نائیکوپ کے ریکارڈ میں درج نان پرنٹ ایبل معلومات میں کوئی ترمیم کرانا چاہتے ہیں تو وڈیو میں بتائے گئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے تمام تر کارروائی مکمل کریں اور کم فیس میں جلد گھر بیٹھے نادرا ریکارڈ میں تبدیلی کرائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکارڈ میں گھر بیٹھے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔