امریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی خریداری کے ممکنہ منصوبوں پر غور جاری ہے۔
گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور وسائل اسے عالمی توجہ مرکز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر باضابطہ غور کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی خریداری کا خیال ایک فعال موضوع ہے اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے ہر باشندے کو 10,000 سے 100,000 ڈالرز تک ادائیگی پیش کر سکتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے یا وہ امریکا کے ساتھ مل جانے پر غور کریں۔
بعض سرکاری بیانات میں ملٹری آپشنز کو بھی ’ہمیشہ ایک امکان‘ کے طور پر کہا گیا ہے لیکن امریکی حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔ تاہم عالمی برادری اور خاص طور پر ڈنمارک نے اس خیالی فوجی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گرین لینڈ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔