Daily Mumtaz:
2026-07-24@08:34:51 GMT

امریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

امریکا کا گرین لینڈ کی خریداری کا ممکنہ منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی خریداری کے ممکنہ منصوبوں پر غور جاری ہے۔

گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ اس کی جغرافیائی پوزیشن اور وسائل اسے عالمی توجہ مرکز بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر باضابطہ غور کر رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کی خریداری کا خیال ایک فعال موضوع ہے اور اس پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنا چاہتا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے ہر باشندے کو 10,000 سے 100,000 ڈالرز تک ادائیگی پیش کر سکتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے یا وہ امریکا کے ساتھ مل جانے پر غور کریں۔

بعض سرکاری بیانات میں ملٹری آپشنز کو بھی ’ہمیشہ ایک امکان‘ کے طور پر کہا گیا ہے لیکن امریکی حکومت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ وہ اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔ تاہم عالمی برادری اور خاص طور پر ڈنمارک نے اس خیالی فوجی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گرین لینڈ

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی