50 برس قبل روانہ ہونے والا ناسا کا وویجر زمین سے ایک نوری دن دور پہنچے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2026 GMT
ناسا کا خلائی جہاز وویجر 1 جو 50 برس پہلے اپنے سفر پر روانہ ہوا تھا اب ایک اہم سنگ میل تک پہنچنے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا تاریخ میں پہلی بار خلا باز کو طبی وجوہات کے باعث آئی ایس ایس سے واپس لانے کا اعلان
رپورٹس کے مطابق یہ خلائی جہاز تاریخ میں پہلا ہوگا جو زمین سے ایک لائٹ ڈے (تقریباً 16 ارب میل) کے فاصلے تک پہنچے گا اور یہ کارنامہ نومبر 2026 تک متوقع ہے۔
وویجر میسج کا جواب کتنی دیر میں دے گا؟اس فاصلے پر زمین سے بھیجا گیا کوئی بھی کمانڈ یا میسج وویجر 1 تک پہنچنے میں 12 گھنٹے لے گا اور جواب واپس آنے میں بھی اتنا ہی وقت لگے گا۔
وویجر پروجیکٹ مینیجر سوزی ڈوڈ کا کہنا ہے کہ اگر میں صبح 8 بجے کوئی کمانڈ بھیجوں اور کہوں، ‘گڈ مارننگ، وویجر 1’، تو وویجر 1 کا جواب بدھ کی صبح تقریباً 8 بجے ملے گا۔
خلا میں رابطے کے لیے وویجر 1 ڈیٹا 160 بٹس (20 بائٹس) فی سیکنڈ کی رفتار سے بھیجتا ہے جو کہ عام ڈائل اپ انٹرنیٹ کی رفتار کے برابر ہے۔
سوزی نے کہا کہ زمین سے اتنے فاصلے کے سبب سگنلز پہنچنے میں زیادہ وقت لیتے ہیں اور ان کی طاقت راستے میں کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
انہوں نے مزید کہا کہ اس سگنل کو جمع کرنے کے لیے اینٹیا کے کئی گروپس استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ سست رفتار ڈیٹا ٹرانسمیشن ٹیم کو صرف محدود معلومات فراہم کرتی ہے اور فوری مسائل کا حل ممکن نہیں ہوتا۔
تاہم وویجر دونوں جہاز خود اپنی حفاظت کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خود کو سیف موڈ میں ڈال سکتے ہیں اور انتظار کر سکتے ہیں جب تک ہم دوبارہ رابطہ کر کے مسئلہ حل نہ کریں۔
چند دہائیوں سے ٹیم نے ان جہازوں کی عمر بڑھانے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں جیسے کہ انجنئرنگ سسٹمز اور آلات بند کرنا تاکہ توانائی بچائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: مریخ مشن: ناسا کے خلائی جہاز نے چپ سادھ لی، وجہ سمجھ سے باہر
اہم بات یہ ہے کہ یہ مشن سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا جب زحل، نیپچون، مشتری اور یورینس ایسے سیدھے ہو گئے تھے جو صرف ہر 175 سال میں ایک بار ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ناسا ناسا وویجر 1 وویجر 1 زمین سے این نوری دن دور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ناسا وویجر 1 وویجر 1 زمین سے این نوری دن دور وویجر 1 کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔