کراچی، اسمگلڈ 3 ارب 90 کروڑ کی ممنوعہ و مضرصحت اشیاء تلف
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستان کسٹمز جے آئی اے پی اور انفورسمنٹ کلکٹریٹ کراچی نے اسمگل ہونیوالے 3 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ضبط شدہ ممنوعہ اور مضر صحت اشیاء کو تلف کر دیا ہے۔
ان اشیامیں غیرملکی شراب، بیئرکینز، ممنوعہ کھلونے، ٹوبیکو مصنوعات، مختلف برانڈزکی سگریٹس، اجینو موتو،نسوار، پان پراگ، شیشہ فلیورز، چھالیہ شامل ہیں۔
اس سلسلے میں گڈاپ کے کھلے علاقے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلکٹرکسٹمز انفورسمنٹ کراچی معین الدین وانی نے کہاکہ محکمہ کسٹمزکی جانب سے ضبط شدہ ممنوعہ اشیاکی تلفی ایک سال میں یہ تیسری مرتبہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کی جارہی ہے۔
معین وانی کے مطابق محکمہ کسٹمزضبط شدہ قابل استعمال اشیاکی نیلامی،جبکہ مضرصحت ممنوعہ اشیاتلف کرتاہے،ضبط شدہ سگریٹس کی تلفی عالمی قوانین ومقامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ کسٹمز حکام کودوران آپریشنز شدیدمزاحمت کابھی سامناکرنا پڑتا ہے، لیکن اسکے باوجودانفورسمنٹ اہلکار جان فشانی کے ساتھ انسداداسمگلنگ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ گزشتہ 5سال سے نوجوان خواتین کسٹمز افسران بھی انسداداسمگلنگ مہم میں شریک ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ کسٹمز کے انسداداسمگلنگ آپریشنز میں قانون نافذ کرنیوالے ادارے بالخصوص سندھ رینجرزکابھرپور تعاون رہتاہے۔
مضرصحت اشیا
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔