شاہ محمود کی بات سنی جائے تو پی ٹی آ ئی سے مذاکرات ہوسکتے ہیں‘ معاون وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آ باد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ن لیگ کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اگر مذاکرات کیے تو تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی و دیگر کے ساتھ ہوں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کوارڈینیٹر وزیر اعظم اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی سمیت دوسرے لوگوں کی پارٹی میں بات سنی جائے گی تو ہی مذاکرات شروع ہو جائیں گے، مذاکرات اگر ہوئے تو پی ٹی آئی سافٹ اور سینئر رہنماوں کے ساتھ ہی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے مخالف گروپ نے مزاحمت اور اسٹریٹ موومنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے صرف برائے نام ہی چیئرمین ہیں۔اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے،مذاکرات کے معاملے پر پی ٹی آئی پھنس چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ دراصل اسٹریٹ فوڈ مووومنٹ ہے، پی ٹی آئی والے مزاحمت کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ مزاحمت سے بانی کی رہائی تو نا ممکن باتوں میں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کسی بھی وقت محمود اچکزئی کو فارغ کر دیں گے۔8 فروری کے احتجاج سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو کچھ نہیں ہو گا، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں ہی اس دن کچھ ہو سکتا ہے، یہ کالجز اور دیگر ادارے اس دن بند کروا دیں گے، جس سے وہاں کی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں ان کی حکومت ہے وہاں ہی یہ کچھ کر سکتے ہیں، ان کو کرنے دیں جو کر رہے ہیں یہ مزید ایکسپوز ہوں گے۔اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی اور کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، عوام کا پیسہ تحریک انصاف والے ریاست کیخلاف استعمال کرتے ہیں، ہم نے کہا کہ آئیے احتجاج کر کے دیکھ لیں، 126 دن کا دھرنا فنڈڈ تھا،اس وقت سب ملے ہوئے تھے، ہم نے 126 دن تک خود کو برقرار رکھا، اب تو ان تلوں میں کوئی تیل نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اختیار ولی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔