data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)الخدمت سماجی خدمات کے 50ویں سال میں داخل ،50سالہ تقریبات کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میں ’’سالانہ کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا ، کانفرنس میں بانی جماعت اسلامی مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سمیت خدمت کے عمل میں شریک تمام اکابرین کو زبردست خراج عقید ت پیش کیا گیا ۔کانفرنس کے مہمان خصوصی امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھو ڑیں گے۔کمپری ہنسو جنریشن زی کنیکٹ پر وگرام پورے ملک میں شروع کریں گے ۔الخدمت50 سال سے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ پورے پاکستان میں جاری ہے ،ہم نے اہل فلسطین کو بھی فراموش نہیں کیا او ر اب تک اہل فلسطین کے لیے ا مدادی سامان کی 40 کھیپ بھجوائی جا چکی ہیں ۔مولانا مودودیؒ ایک نفیس انسان تھے ،جب مسلمان ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو انہوں نے مہاجرین کی خدمت کی ۔انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان جب پاکستان آئے تو انہوں نے جھونپڑی میں زندگی گزاری، زندگی میں بہت محنت کی ،اللہ نے ان کی مدد کی ،وہ کامیاب وکیل بنے ، مولانا مودودیؒ کی فکر سے متاثر ہو کر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ،جماعت اسلامی کے امیر بنے ،سٹی ناظم بنے،جماعت اسلامی نے ان کی تربیت کی۔ مولاناموددیؒ کی فکر نے ان کو پروان چڑھایا ۔تقریب سے سی ای او الخدمت نوید علی بیگ ،سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد ،مزاحیہ اداکار ایاز خان ،اینکر پرسن رضوان جعفر ،اسپورٹس اینکر یحییٰ حسینی ودیگر نے اظہار خیا ل کیا ۔تقریب میں سیکرٹری آف قطر قونصلیٹ علی محمد الماسلمانی،جاپانی قونصلیٹ کے نمائندے ماتسوداکازونوری ، سینئر نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان احسان اللہ وقاص ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی ،الخدمت کے تمام شعبہ جات کے ڈائریکٹرز کے ساتھ کارپوریٹ اداروں کے سربراہان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میںمشکل حالات میں بھی ہم نے لوگوں کی خدمت نہیں چھوڑی ۔الخدمت پورے پاکستان میں خدمت کے کام کر رہی ہے ،خیبر پختونخوا میں سیلاب آیا تو الخدمت کے رضاکاروں نے جان پر کھیل کر خدمت کی ۔بونیر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں خدمت کرتے ہوئے الخدمت کا رضاکار جان سے گیا ۔الخدمت کے رضاکاروں نے کورونا کے دنوں میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کیا ۔الخدمت کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کو جس مد میں فنڈ ملتا ہے ،اسی مد میں خرچ کیا جاتاہے ۔الخدمت عوام کا دیا پیسہ شفاف طریقے سے لوگوں پر خرچ کرتی ہے ۔الخدمت کے کام کو بہت وسیع کرنا چاہتے ہیں ،ملک بھر میں 58ہزار رضاکار بن چکے ہیں ،جن میں طلبہ وطالبات شامل ہیں ۔ہم نے نوجوانوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا ،نوجوانوں میں مایوسی تھی ،نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبوہیں ،نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں ملتیں ۔ یہاں صحت کی سہولتیں نہیں ہیں ۔ہم نے نوجوانوں کو امید دی ،دنیا میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جہاں اس کے دفتر میں ہزاروں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنو قابل ملک بھر میں پھیل چکا ہے ،ان نوجوانوں کا ہاتھ پکڑنا ہو گا ،انہیں اعتماد دینا ہوگا ۔بنو قابل پروگرام میں 12لاکھ بچے رجسٹرڈٖ ہو چکے ہیں جن میں 40فیصد لڑکیاں ہیں ۔ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھو ڑیں گے ،ہم نے جنریشن زی پروگرام شروع کیا ،بنو قابل اس کا حصہ ہے ۔ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناچاہتے ہیں ۔کراچی میں اولمپکس کا آغاز کردیا گیا ہے ،یہ ایک مثبت سرگرمی ہو گی ،نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کریں گے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خدمت کا کا م ہمارا ذاتی کام نہیں یہ کام اللہ کی مخلو ق کا کام ہے ۔اللہ رحمن ورحیم ہے ،ہم اللہ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ ہم دے نہیں رہے ہوتے بلکہ لے رہے ہوتے ہیں ،اللہ اجر کی صورت میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر ہمیں دیتا ہے ۔اللہ کو تقویٰ پسند ہے ۔ لوگ الخدمت کے کاموں میں اس کا بھر پور ساتھ دیں اور اس کا حصہ بنیں ۔سی ای او الخدمت نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت کروڑں لوگوں کی زندگیوں کو فائدہ پہنچارہی ہے ۔الخدمت کا بنو قابل پروگرام لوگوں کی زندگیوں کو بدل رہا ہے ،یہ پروگرام معاشرے میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے ۔الخدمت سیلاب میں بھی لوگوں کی خدمت کرتی ہے ،بونیر میں کلاؤڈ برسٹ ہوا تو ہمارے والنٹیئرز نے بھرپور کام کیا ،عید الاضحی پر ہمارے کارکن گھروں میں نہیں رہتے بلکہ چرم قربانی کی مہم میں مصروف ہوتے ہیں ۔الخدمت کے نام سے شروع ہونے والا سفر1976 سے جاری ہے ،اس سے پہلے یہ کام شعبہ خدمت کے نام سے کیا جاتاتھا ،یہ سفر 2 میت گاڑیوں سے شروع ہے ،پھر2 شفا خانے قائم کیے گئے ۔بنو قابل پروگرام سے 75 ہزار بچے پاس آؤٹ کر چکے ہیں ۔ان میں سے ہزاروں بچے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے واٹر پلانٹس لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں ،شہر میں پانی کے مسائل کا سامنا ہے ،اس وقت 73واٹر فلٹریشن پلانٹس کام کر رہے ہیں ،ہیلتھ کے شعبے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈائیگنوسٹک سینٹر قائم کیا ہے ،جہاں ٹیسٹ کی سہولت ارزاں نرخوں پر معیار کے ساتھ فراہم کی جار ہی ہے ۔الخدمت فارمیسی ،کلیکشن پوائنٹس کا بھی نیٹ ورک رکھتی ہے ،الخدمت کے اسپتال اور میڈیکل سینٹر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم نے 2025 میں لڑکیوں کے لیے آغوش ہوم قائم کردیا ہے ،الخدمت کی خواتین ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اہل کراچی اوراہل پاکستان سے کہا کہ وہ آئیں اور الخدمت کے کاموں میں اس کی مدد کریں ۔سابق کرکٹرتوصیف احمد نے الخدمت کی کاوشوں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ الخدمت بڑا کام کر رہی ہے ،دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ،خدمت کرنے والوں کے لیے اسی دنیا میں جنت ہے ،خدمت کرنے والے بڑے لوگ ہیں ۔انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے میں الخدمت کا حصہ ہوں اور اسپورٹس کے شعبے میں ان کی خدمت کے لیے حاضر ہیں ۔ اداکار ایاز خان یحییٰ حسینی ،رضوان جعفر اور دیگر مقررین نے الخدمت کی کاشوں کو سراہا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ الخدمت کا ساتھ دیں ۔

الخدمت کراچی کی 50سالہ تقریبات کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میں منعقدہ سالانہ کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور سی ای او الخدمت نوید علی بیگ خطاب کررہے ہیں

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے بنو قابل پروگرام انہوں نے کہا کہ لوگوں کی خدمت جماعت اسلامی خدمت کے کام الخدمت کے الخدمت کی الخدمت کا رہے ہیں میں بھی خدمت کا خدمت کی کر رہے کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا