الخدمت کی خدمات کے 50سال ‘مولانا مودودیؒ واکابرین کو زبردست خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)الخدمت سماجی خدمات کے 50ویں سال میں داخل ،50سالہ تقریبات کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میں ’’سالانہ کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا ، کانفرنس میں بانی جماعت اسلامی مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سمیت خدمت کے عمل میں شریک تمام اکابرین کو زبردست خراج عقید ت پیش کیا گیا ۔کانفرنس کے مہمان خصوصی امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھو ڑیں گے۔کمپری ہنسو جنریشن زی کنیکٹ پر وگرام پورے ملک میں شروع کریں گے ۔الخدمت50 سال سے لوگوں کی خدمت کر رہی ہے اور خدمت کا یہ سلسلہ پورے پاکستان میں جاری ہے ،ہم نے اہل فلسطین کو بھی فراموش نہیں کیا او ر اب تک اہل فلسطین کے لیے ا مدادی سامان کی 40 کھیپ بھجوائی جا چکی ہیں ۔مولانا مودودیؒ ایک نفیس انسان تھے ،جب مسلمان ہجرت کر کے پاکستان پہنچے تو انہوں نے مہاجرین کی خدمت کی ۔انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان جب پاکستان آئے تو انہوں نے جھونپڑی میں زندگی گزاری، زندگی میں بہت محنت کی ،اللہ نے ان کی مدد کی ،وہ کامیاب وکیل بنے ، مولانا مودودیؒ کی فکر سے متاثر ہو کر جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ،جماعت اسلامی کے امیر بنے ،سٹی ناظم بنے،جماعت اسلامی نے ان کی تربیت کی۔ مولاناموددیؒ کی فکر نے ان کو پروان چڑھایا ۔تقریب سے سی ای او الخدمت نوید علی بیگ ،سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد ،مزاحیہ اداکار ایاز خان ،اینکر پرسن رضوان جعفر ،اسپورٹس اینکر یحییٰ حسینی ودیگر نے اظہار خیا ل کیا ۔تقریب میں سیکرٹری آف قطر قونصلیٹ علی محمد الماسلمانی،جاپانی قونصلیٹ کے نمائندے ماتسوداکازونوری ، سینئر نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان احسان اللہ وقاص ،ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی ،الخدمت کے تمام شعبہ جات کے ڈائریکٹرز کے ساتھ کارپوریٹ اداروں کے سربراہان اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شہر میںمشکل حالات میں بھی ہم نے لوگوں کی خدمت نہیں چھوڑی ۔الخدمت پورے پاکستان میں خدمت کے کام کر رہی ہے ،خیبر پختونخوا میں سیلاب آیا تو الخدمت کے رضاکاروں نے جان پر کھیل کر خدمت کی ۔بونیر میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں خدمت کرتے ہوئے الخدمت کا رضاکار جان سے گیا ۔الخدمت کے رضاکاروں نے کورونا کے دنوں میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کیا ۔الخدمت کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کو جس مد میں فنڈ ملتا ہے ،اسی مد میں خرچ کیا جاتاہے ۔الخدمت عوام کا دیا پیسہ شفاف طریقے سے لوگوں پر خرچ کرتی ہے ۔الخدمت کے کام کو بہت وسیع کرنا چاہتے ہیں ،ملک بھر میں 58ہزار رضاکار بن چکے ہیں ،جن میں طلبہ وطالبات شامل ہیں ۔ہم نے نوجوانوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا ،نوجوانوں میں مایوسی تھی ،نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبوہیں ،نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہیں ملتیں ۔ یہاں صحت کی سہولتیں نہیں ہیں ۔ہم نے نوجوانوں کو امید دی ،دنیا میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جہاں اس کے دفتر میں ہزاروں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہوں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنو قابل ملک بھر میں پھیل چکا ہے ،ان نوجوانوں کا ہاتھ پکڑنا ہو گا ،انہیں اعتماد دینا ہوگا ۔بنو قابل پروگرام میں 12لاکھ بچے رجسٹرڈٖ ہو چکے ہیں جن میں 40فیصد لڑکیاں ہیں ۔ہم جنریشن زی کو تنہا نہیں چھو ڑیں گے ،ہم نے جنریشن زی پروگرام شروع کیا ،بنو قابل اس کا حصہ ہے ۔ہم نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناچاہتے ہیں ۔کراچی میں اولمپکس کا آغاز کردیا گیا ہے ،یہ ایک مثبت سرگرمی ہو گی ،نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کریں گے انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خدمت کا کا م ہمارا ذاتی کام نہیں یہ کام اللہ کی مخلو ق کا کام ہے ۔اللہ رحمن ورحیم ہے ،ہم اللہ کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ ہم دے نہیں رہے ہوتے بلکہ لے رہے ہوتے ہیں ،اللہ اجر کی صورت میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر ہمیں دیتا ہے ۔اللہ کو تقویٰ پسند ہے ۔ لوگ الخدمت کے کاموں میں اس کا بھر پور ساتھ دیں اور اس کا حصہ بنیں ۔سی ای او الخدمت نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت کروڑں لوگوں کی زندگیوں کو فائدہ پہنچارہی ہے ۔الخدمت کا بنو قابل پروگرام لوگوں کی زندگیوں کو بدل رہا ہے ،یہ پروگرام معاشرے میں بھی بڑی تبدیلی لا رہا ہے ۔الخدمت سیلاب میں بھی لوگوں کی خدمت کرتی ہے ،بونیر میں کلاؤڈ برسٹ ہوا تو ہمارے والنٹیئرز نے بھرپور کام کیا ،عید الاضحی پر ہمارے کارکن گھروں میں نہیں رہتے بلکہ چرم قربانی کی مہم میں مصروف ہوتے ہیں ۔الخدمت کے نام سے شروع ہونے والا سفر1976 سے جاری ہے ،اس سے پہلے یہ کام شعبہ خدمت کے نام سے کیا جاتاتھا ،یہ سفر 2 میت گاڑیوں سے شروع ہے ،پھر2 شفا خانے قائم کیے گئے ۔بنو قابل پروگرام سے 75 ہزار بچے پاس آؤٹ کر چکے ہیں ۔ان میں سے ہزاروں بچے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے واٹر پلانٹس لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں ،شہر میں پانی کے مسائل کا سامنا ہے ،اس وقت 73واٹر فلٹریشن پلانٹس کام کر رہے ہیں ،ہیلتھ کے شعبے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈائیگنوسٹک سینٹر قائم کیا ہے ،جہاں ٹیسٹ کی سہولت ارزاں نرخوں پر معیار کے ساتھ فراہم کی جار ہی ہے ۔الخدمت فارمیسی ،کلیکشن پوائنٹس کا بھی نیٹ ورک رکھتی ہے ،الخدمت کے اسپتال اور میڈیکل سینٹر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم نے 2025 میں لڑکیوں کے لیے آغوش ہوم قائم کردیا ہے ،الخدمت کی خواتین ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اہل کراچی اوراہل پاکستان سے کہا کہ وہ آئیں اور الخدمت کے کاموں میں اس کی مدد کریں ۔سابق کرکٹرتوصیف احمد نے الخدمت کی کاوشوں کو سراہا، انہوں نے کہا کہ الخدمت بڑا کام کر رہی ہے ،دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ،خدمت کرنے والوں کے لیے اسی دنیا میں جنت ہے ،خدمت کرنے والے بڑے لوگ ہیں ۔انہوں نے اعلان کیا کہ آج سے میں الخدمت کا حصہ ہوں اور اسپورٹس کے شعبے میں ان کی خدمت کے لیے حاضر ہیں ۔ اداکار ایاز خان یحییٰ حسینی ،رضوان جعفر اور دیگر مقررین نے الخدمت کی کاشوں کو سراہا اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ الخدمت کا ساتھ دیں ۔
الخدمت کراچی کی 50سالہ تقریبات کے سلسلے میں مقامی ہوٹل میں منعقدہ سالانہ کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور سی ای او الخدمت نوید علی بیگ خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے بنو قابل پروگرام انہوں نے کہا کہ لوگوں کی خدمت جماعت اسلامی خدمت کے کام الخدمت کے الخدمت کی الخدمت کا رہے ہیں میں بھی خدمت کا خدمت کی کر رہے کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔