پارلیمنٹ ہا ئو س میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )پارلیمنٹ ہا ئو س میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت کا سلسلہ جاری،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے تعزیتی ملاقات ،اسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ کی مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی، مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا،نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر قانون کا سوگوار خاندان سے اظہارِ یکجہتی، صبرِ جمیل کی دعا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کا تعزیت اور ہمدردی پر نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر قانون کا شکریہ۔

وفاقی وزیر قانون، سینیٹرز اور پارلیمنٹیرینز کی بڑی تعداد کی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے تعزیتی ملاقاتسینیٹر سید علی ظفر، سینیٹر عون عباس، سینیٹر مشال یوسفزائی، سینیٹر دوست محمد خان، سینیٹر سلیم مانڈی والا ، سینیٹر مسرور احسن , سینیٹر ندیم بھٹو سینیٹر سید وقار مہندی سینٹر سرمد علی سینٹر بلاول خان مند وخیل سنیٹر ناصر محمود بٹ سینٹر خلیل طاہر سندھو و دیگر سمیت اہم شخصیات کی تعزیت۔تعزیت کے لیے آنے والوں کی مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمحمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہ محمود اچکزئی کا اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا ساتھ دینے کا عندیہ ایف ڈی ای انٹر اسکول ہاکی ٹورنامنٹ کا فائنل، ٹیم سی کی شاندار کامیابی ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آگیا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قائمہ کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ اور اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کے مجوزہ بل کی منظوری دیدی صدر آئی سی سی آئی، ملائیشین ہائی کمشنر تجارتی حجم 4 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم انڈر 19 ورلڈکپ؛ پاکستان نے اسکاٹ لینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے تعزیت

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی