جماعت اوّل تا بارہویں، مصنوعی ذہانت و روبوٹکس کا نصاب منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) پاکستان کے قومی تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی شمولیت، جماعت اوّل تا بارہویں کے لیے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا نصاب منظور کر لیا گیا۔
نیشنل کریکولم کونسل وِنگ نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے نصاب کو حتمی شکل دی۔
این سی سی جدید نصاب طلبہ کو کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی، جدید نظام، روبوٹکس ڈیزائن کو ذمہ دارانہ استعمال اور حقیقی مسائل کے حل کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
نیشنل کریکولم کونسل ونگ کے مطابق یہ نصاب ترقی کے مختلف مراحل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے، اس کا مقصد طلبہ میں جدت، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے۔
این سی سی کے مطابق نصاب کے ذریعے طلباءجدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ ہوں گے، نوٹیفکیشن کے بعد یہ نصاب متعلقہ صوبائی محکمہ تعلیم، نصاب ساز اداروں، اساتذہ کی تربیت کے اداروں اور امتحانی بورڈز کو فراہم کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔