رحیم یار خان، خوف و دہشت کی علامت سمجھے جانے والے دو مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
رحیم یار خان:
رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جانے والے اور انتہائی مطلوب دو ڈاکوؤں نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق پولیس کو انتہائی مطلوب ڈاکو قابل سکھانی اور مورزادہ دشتی کے سر کی قیمت فی کس ایک کروڑ روپے مقرر تھی، حکومت پنجاب نے بدنام زمانہ ڈاکو سکھانی اور مورزادہ دشتی کے سر کی قیمت ایک کروڑ مقرر کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے دونوں سرغنہ قابل سکھانی اور مورزادہ دشتی نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیا ہے، دونوں ڈاکو قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، پولیس پر حملوں سمیت سنگین جرائم میں ملوث تھے۔
قابل سکھانی اور مور زادہ دشتی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جرائم کی دنیا سے توبہ کرکے باعزت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں نے کہا کہ کچہ ایریاز میں کریمنلز کے خاتمے تک ڈرون آپریشن، فورس کی پیش قدمی جاری رہے گی۔
ترجمان کے مطابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے مجموعی طور پر دو کروڑ روپے سر کی قیمت والے دونوں خطرناک ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے پر رحیم یار خان پولیس کو شاباش دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رحیم یار خان سکھانی اور
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔