کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے مشرق وسطیٰ کیلئے پروازیں معطل کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ہالینڈ کی ایئر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کے لیے بھی سروسز معطل کر دی ہیں۔ فرانسیسی فضائی کمپنی ایئر فرانس نے تل ابیب اور دبئی کے لیے پروازیں معطل کر دیں۔ پرٹش ایئرویز نے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ لفتھانسا اور سوئس ایئر لائنز نے بھی اسرائیل کیلئے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایئر کینیڈا نے بھی اسرائیل کیلئے طے شدہ پروازیں روک دی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کئی بڑی بین الاقوامی ایئر لائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی ایئر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کے لیے بھی سروسز معطل کر دی ہیں۔ فرانسیسی فضائی کمپنی ایئر فرانس نے تل ابیب اور دبئی کے لیے پروازیں معطل کر دیں۔ پرٹش ایئرویز نے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ لفتھانسا اور سوئس ایئر لائنز نے بھی اسرائیل کیلئے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایئر کینیڈا نے بھی اسرائیل کیلئے طے شدہ پروازیں روک دی ہیں۔ پروازوں کی یہ منسوخی خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ ایران کشیدگی کے پیش نظر عمل میں لائی گئی ہے۔ دوسری جانب المیادین کے مطابق ایئر لائنز کی سروس تعطل کے علاوہ، خلیج میں ایران کے ساحل کے قریب امریکی بحریہ کے ایک بحری طیارے 'بوئنگ P-8A کو نگرانی کی کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جو اس علاقے میں مغربی فوجی موجودگی اور مانیٹرنگ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ فضائی حدود کی حفاظت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے ساتھ ساتھ فضائی جاسوسی کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے پروازیں معطل کر دی نے بھی اسرائیل کیلئے پروازیں منسوخ کر دی متحدہ عرب امارات معطل کر دی ہیں ایئر لائنز نے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔