گل پلازا کی لیز اور قانون شکنی میں فاروق ستار اور جماعت اسلامی کے ناظمین کا کردار ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اس وقت وہ کراچی کے میئر تھے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری انہی کی تھی، فاروق ستار خود کو بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاریخ کے ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات سب بتا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے ردعمل دے دیا۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کرسکتے، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے اٹھارویں ترمیم پر بات کی، گل پلازا کی لیز اور قانون شکنی میں فاروق ستار اور جماعت اسلامی کے ناظمین کا کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام غیر قانونی اقدامات 18ویں ترمیم سے پہلے کیے گئے تھے، فاروق ستار جھٹلا نہیں سکتے کہ ان فیصلوں نے آگے چل کر گل پلازا سانحے کو جنم دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اس وقت وہ کراچی کے میئر تھے اور شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری انہی کی تھی، فاروق ستار خود کو بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاریخ کے ریکارڈ اور سرکاری دستاویزات سب بتا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطہ ریگولرائزیشن کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی، خلاف ورزیوں کو ریگولرائز کر کے قانونی تحفظ دیا گیا، گل پلازا سانحہ کسی ایک دن کی غفلت کا نتیجہ نہیں۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سانحہ دہائیوں پر محیط غلط فیصلوں اور انتظامی کوتاہیوں کا منطقی انجام ہے، جن لوگوں نے ان غلط فیصلوں کی بنیاد رکھی وہ آج سوالات سے فرار اختیار نہیں کرسکتے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عوام پوچھ رہے ہیں کہ بنیاد ہی غلط رکھی گئی تھی تو نتائج کا حساب کون دے گا؟ سچ یہ ہے کہ جنہوں نے غیر قانونی تعمیرات کو جائز قرار دیا وہ جواب دہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ فاروق ستار گل پلازا رہے ہیں
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔