Jasarat News:
2026-06-02@23:55:27 GMT

کراچی کا المیہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی، پاکستان کا معاشی دارالحکومت، ایک ایسا شہر ہے جو کبھی خوابوں کی نگری کہلاتا تھا۔ مگر آج یہ شہر تباہی، دہشت گردی، بدعنوانی اور سیاسی سازشوں کا شکار ہے۔ اس المیے کی جڑیں کراچی کی ان سیاسی جماعتوں میں پیوست ہیں جو کراچی کی دشمن بن چکی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعتیں، جو نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی بھی اتحادی ہیں، نے شہر کو مسلسل لوٹا ہے برباد کیا ہے اس کو حاصل سہولتوں کو ختم کیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے لوگوں کا دل جیتنے کے بجائے ان پر ایم کیو ایم کے ان دہشت گردوں کو مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا وہ جو الطاف حسین کے حکم پر کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے تھے ان کو پارسا اور پاک صاف بنا کر اہل کراچی پرمسلط کرنے کا سب سے بڑا سبب مسلم لیگ نون ہے، جو الیکشن ہارنے کے باوجود انہیں جتواتی اور حکومتی فوائد پہنچاتی ہے۔ اور بھول جاتی ہے کہ کراچی میں مختلف قومیتوں اور خود اردو بولنے والے کراچی کے شہریوں کے خون سے اس جماعت کے ہاتھ لت پت ہیں۔ زیادہ دور نہیں جائیے یاد کیجیے بلدیہ فیکٹری کو لگائی جانے والی آگ، سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضے کے واقعات، صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ اب سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے بھی کراچی سے نا معلوم گناہوں کا انتقام لینا شروع کیا ہے اس کی سب سے بڑی مثال ریڈ لائن پروجیکٹ کی سست رفتاری اور عدالتی کرپشن – یہ سب ثبوت ہیں کہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) جیسی جماعتیں کراچی کی ترقی کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ مضمون ان واقعات کی روشنی میں کراچی کے المیے کو بیان کرتا ہے، جہاں حادثات محض اتفاقی نہیں بلکہ منظم دہشت گردی اور بدعنوانی کا سلسلہ ہیں۔

2012 میں بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں لگی آگ نے 260 سے زائد مزدوروں کو زندہ جلا دیا۔ یہ کوئی سادہ حادثہ نہ تھا بلکہ ایک منصوبہ بندی دہشت گردانہ فعل تھا۔ فیکٹری مالکان نے ایم کیو ایم کو 20 کروڑ روپے کا بھتا نہیں دیا تھا، جس کی سزا ان مزدوروں کو بھگتنی پڑی جن کا روزگار اس فیکٹری سے وابستہ تھا۔ ایم کیو ایم کے عہدیدار رحمان بھولا اور زبیر چریا کو موت کی سزا سنائی گئی، اور سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں اسے برقرار رکھا تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہے بجائے اس کے کہ ان واقعات کی بنا پر اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا، ان کے اوپر پابندی لگائی جاتی ان کو گلے لگایا گیا اور اقتدار میں حصہ دار بنایا گیا۔ یہ واقعہ کراچی کی آتش زدگیوں کا صرف ایک باب ہے۔ شہر میں ایسی آتش زدگی کے واقعات محض حادثات نہیں، بلکہ دہشت گردی کا سلسلہ ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے لیڈر فاروق ستار نے گل پلازہ کی زندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہائے اور سندھ حکومت کو لعن طعن کیا اور ان کو اس آتش زدگی کا ذمے دار ٹھیرایا حکومت یقینا ذمے دار ہوتی ہے، لیکن حادثات اور دہشت گردی میں فرق بھی واضح رہنا چاہیے ایم کیو ایم کی دہشت گردی میں تقریباً 300 کے قریب لوگ آتش زدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم نے کئی لوگوں کو زندہ بھی جلایا ہے جس میں کراچی کے ایک وکیل رہنما بھی شامل ہیں۔ فاروق ستار حال ہی میں سندھی کلچر ڈے پر پی پی پی پر ’ریاست کے اندر ریاست‘‘ قائم کرنے کا الزام لگا رہے تھے، مگر خود اپنی جماعت کے ماضی کے جرائم بھول گئے۔ ایم کیو ایم لیڈرز کے بیانات اور پی پی پی کے جوابات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیاسی دشمنی شہریوں کی جانیں لوٹ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم کیو ایم سے اتحاد نے اس سلسلے کومزید تقویت دی ہے، کیونکہ وفاقی حمایت نے ایم کیو ایم کو کراچی میں ناقابل ِ چیلنج بنا دیا۔ وہ اب بھی مختلف منصوبوں میں اپنا بھتا اور اپنا حصہ مانگتے ہیں۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہونے کے باوجود یہاں ترقیاتی کاموں کی رفتار سب سے سست ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ 2022 میں شروع ہوا، مگر لاگت بڑھنے، یوٹیلیٹی شفٹنگ اور کنٹریکٹر تنازعات کے بہانوں کی وجہ سے 2026 تک بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ملک بھر میں اس قسم کے پروجیکٹس چھے ماہ میں ختم ہو جاتے ہیں، مگر کراچی کو 15 سے 20 سال کا وقت دیا جاتا ہے۔ یہ دانستہ سست رفتاری ہے، جو سیاسی مفادات کے تحت ہوتی ہے، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے گٹھ جوڑ اور سپورٹ کی وجہ سے جو وفاقی فنڈز پر کنٹرول رکھتی ہے۔ کراچی کے شہری مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کا المیہ اور بھی گہرا ہے۔ 1992 میں ایم کیو ایم نے اسے بند کرانے کا فیصلہ کیا، لیکن سیاسی حکومت کی وجہ سے یہ منصوبہ بند نہ ہوا لیکن 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اسے بند کر دیا جو ایم کی ایم کے سب سے بڑے حامی تھے۔ سرکلر ریلوے کی بند ہوتے ہی ایم کیو ایم نے ریلوے کی زمینوں پر قبضہ شروع کیا، اور چائنا کٹنگ کے ذریعے ان زمینوں کو بیچ دیا گیا۔ فاروق ستار نے یہ بہانہ بنایا کہ ایم کیو ایم نے غریبوں کے لیے چائنا کٹنگ شروع کی، مگر لینڈ مافیا نے فائدہ اٹھایا مگر حقیقت یہی تھی کہ ایم کیو ایم اور لینڈ مافیا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم کی اس لوٹ مار کو وفاقی سطح پر نظر انداز کر کے کراچی کی ترقی کو روکا۔ قبضہ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ آج بھی کے سی آر کی زمینیں لوٹی جارہی ہیں، اور کراچی کی ترقی رک گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کا الائنس، ترقی کے بجائے

زمینوں کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔

سابق چیف جسٹس عدالت عظمیٰ گلزار احمد نے کے سی آر کی زمینوں سے میلوں دور نسلہ ٹاور کو منہدم کروایا۔ 2021 میں عدالت کے حکم پر 15 منزلہ عمارت گرا دی گئی، جس میں رہائشیوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ لوگوں کی جمع پونجی لٹ گئی، مگر متعلقہ لوگ غائب ہیں جن کو سزا ملنی چاہیے تھی لیکن سزا ان کو ملی جن کا کوئی جرم نہیں تھا۔ یہ عدالتی کارروائی کے سی آر سے متعلق تھی، مگر غلط عمارت نشانہ بنائی گئی۔ کرپشن اب ناسور بن چکی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس کرپشن پر نظر ڈالنی چاہیے۔ حکمرانوں کی اولادوں کی شادیوں میں شرکت کے بجائے غریب عوام کے مسائل حل کریں۔ کراچی کی سیاسی جماعتیں اور عدالتیں مل کر شہر کو تباہ کر رہی ہیں۔ کراچی کی حقیقی دشمن ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) ہیں۔ فاروق ستار احتجاج کرتے ہیں مگر بلدیہ جیسے جرائم بھول جاتے ہیں۔ پی پی پی ترقیاتی فنڈز لوٹتی ہے، اور مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کو وفاقی سپورٹ دے کر کراچی والوں پر مسلط کرتی ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضے، آگ کی دہشت گردی، ریڈ لائن کی تعمیر میں تاخیر سب انہی جماعتوں کی کارستانیاں ہیں۔

کراچی کا المیہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف جیسی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہے۔ یہاں میں نے تحریک انصاف کا زیادہ ذکر نہیں کیا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ایم کی ایم حصے دار تھی اتحادی تھی تحریک انصاف بھی کراچی کو ایم کیو ایم کی ہی نظر سے دیکھتی تھی یہاں پر وہ دانستہ نہیں چاہتے کہ ان کا کوئی سیاسی وجود بنے ایم کیو ایم کی دہشت گردی، پی پی پی کی لوٹ مار اور مسلم لیگ (ن) کی ایم کیو ایم کو مسلط کرنے کی پالیسی نے شہر کو برباد کر دیا۔ اگر سیاسی جماعتیں نہیں سدھریں تو کراچی کا المیہ مزید گہرا ہوگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسی قیادت کو کراچی کے مسائل بھی حل کرنے ہوں گے۔ کراچی کی بقا اسی میں ہے کہ اس کے دشمنوں، بالخصوص ایم کیو ایم، کو سزا دی جائے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی پی پی اور مسلم لیگ ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم نے نے ایم کیو ایم کہ ایم کیو ایم ایم کیو ایم کے ایم کیو ایم کی تحریک انصاف سرکلر ریلوے فاروق ستار کی زمینوں کی وجہ سے کے سی ا ر ریلوے کی کا المیہ کے بجائے کراچی کے کراچی کی

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟