چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت الیکٹرک ٹرام اور ای بس منصوبے کے حوالے سے اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماحول دوست اور جدید عوامی نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے کے مقصد سے الیکٹرک ٹرام اور ای بس منصوبے کے حوالے سے بدھ کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ممبر فنانس طاہر نعیم اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت سی ڈی اے کے دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں دارالحکومت اسلام آباد میں الیکٹرک ٹرام اور الیکٹرک بسوں منصوبے کے عملی نفاذ اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد شہر میں الیکٹرک ٹرام منصوبے پر جلد فیزیبلٹی سٹڈی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔الیکٹرک ٹرام منصوبے کے تحت ٹرام کیلئے ڈپو، پارکنگ، چارجنگ انفراسٹرکچر اور مرمت کے جدید سہولیات شامل ہوگی۔ منصوبے کو جدید انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم (آئی ٹی ایس )کے مطابق نافذ العمل بنایا جائیگا۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار، آرام دہ اور ماحول دوست منصوبہ ہوگا۔ اس منصوبے کو جدید ٹرانزٹ سسٹم سے مربوط کیا جائیگا۔چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور کیش لیس بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس ماحول دوست ٹرانسپورٹ منصوبے میں کاربن کریڈٹ کے حصول کو پلاننگ فیز میں یقینی بنایا جائے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ الیکٹرک ٹرام منصوبے کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اہم مقامات اور خصوصا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے منسلک کرنے کیلئے فیزیبلٹی سٹڈی کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں تازہ ترین رائیڈر شپ کے اعداد و شمار اور مستقبل کی مانگ کو مدنظر رکھا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ تاریخی اقدام نہ صرف شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کریگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بھی بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شہریوں کو بہترین ، سستی اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہورہی ہیں، طلال چوہدری وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ہورہی ہیں، طلال چوہدری پولیو کے مکمل خاتمے تک اقدامات جاری رکھیں گے ، وزیراعظم غیر مستحکم عالمی جیو پولیٹکس میں ازبکستان کے لیے پاکستان اہم تجارتی گیٹ وے بن گیا کوہستان اسکینڈل: نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی یکمشت ریکوری، 4 ارب 5 کروڑ قومی خزانے میں جمع پاکستان اور ترکیہ کے درمیان چاول کی تجارت بڑھانے پر اتفاق خصوصی عدالتوں، ٹربیونلز اور لا افسران کے جوڈیشل الاونسز روکنے کے احکامات معطل TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: الیکٹرک ٹرام اور چیئرمین سی ڈی اے کے حوالے سے منصوبے کے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے