پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی میں 2 نئے ارکان کو شامل کر کے کمیٹی کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما زلفی بخاری اور انتظار پنجوتھہ کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

Newly nominated political
Committee members pic.

twitter.com/Gzi9Jf2vMb

— Sheikh Waqas Akram (@SheikhWaqqas) January 28, 2026

گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی کمیٹی کی ازسر نو تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، جس کے تحت 23 اہم رہنماؤں کو کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا اور علی امین گنڈاپور، مراد سعید، شہباز گل اور علی محمد خان کو کمیٹی سے خارج کر دیا گیا تھا۔

سیاسی کمیٹی میں شامل دیگر اہم رہنماؤں میں چیئرمین گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور علامہ راجا ناصر عباس شامل ہیں۔

مزید برآں، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، شبلی فراز، معین قریشی، ملک احمد خان بھچر، سجاد برکی، عالیہ حمزہ، جنید اکبر، حلیم عادل شیخ اور داؤد کاکڑ بھی کمیٹی کے رکن ہیں۔

قبل ازیں پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما عمر ایوب خان نے پارٹی کی نئی تشکیل شدہ سیاسی کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر استعفیٰ دے دیا۔

مزید پڑھیں: عمر ایوب کا پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شمولیت سے انکار، ’میری جگہ محمود اچکزئی کو شامل کریں‘

عمر ایوب خان نے یہ بات سیاسی کمیٹی کے سربراہ بیرسٹر سلمان اکرم راجا کو لکھے گئے خط میں کہی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں عمر ایوب خان نے واضح کیا کہ وہ اب نہ تو رکنِ پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی پی ٹی آئی کے کسی عہدے پر فائز ہیں، اس لیے ان کا سیاسی کمیٹی میں شامل ہونا پارٹی کے طے شدہ معیار کے خلاف ہے۔

انہوں نے یاددہانی کروائی کہ وہ پہلے اجلاس میں بھی اپنی معذوری کا اظہار کر چکے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پی ٹی آئی توسیع سیاسی کمیٹی نوٹیفکیشن جاری وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی توسیع سیاسی کمیٹی نوٹیفکیشن جاری وی نیوز سیاسی کمیٹی میں کمیٹی میں پی ٹی ا ئی عمر ایوب

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم