بدین، ایچ آر سی پی کا پیکا ایکٹ کے تحت سزائوں کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین(نمائندہ جسارت)ایچ آر سی پی کے زیراہتمام پیکا ایکٹ کے تحت سزاؤں کے خلاف احتجاج، سول سوسائٹی وکلا اور صحافیوں کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے اظہارِ یکجہتی ۔نامور وکیل اور انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری اور ان کے شوہر ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت دی گئی سزا کے خلاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام حیدرآباد پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں، وکلا برادری، خواتین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ریجنل کوآرڈینیٹر غفرانہ آرائیں، مرکزی رہنما امداد چانڈیو، پشپا کمباری، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان، عاصمہ جہانگیر ٹیم کے رہنماؤں حم?د سومرو، ایڈوکیٹ عاجز مر, ایڈووکیٹ محب آزاد ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی نائب صدر خالد کھوکھر، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اقبال ملاح، حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر تنویر احمد آرائیں سمیت سینئر صحافیوں اشوک رحمانی، رمضان شورو، فیصل ڈھری، انور اور دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر احتجاجی شرکا نے کہا کہ احتجاج کا مقصد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ پیکا ایکٹ جیسے سیاہ قانون کے تحت صحافیوں، وکلا ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کے خلاف قائم مقدمات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ آزادی اظہار، آزادی صحافت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ شرکا نے کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ جبر کے ماحول میں سیاہ قوانین کے ذریعے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے جو آئینِ پاکستان اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیکا ایکٹ میں انسانی حقوق کے منافی شقوں کو ختم کیا جائے اور ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سمیت تمام صحافیوں اور کارکنان کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک شہری آزادیوں اور آزادی اظہار کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ اس موقع پر شرکا نے سیاہ قانون پیکا ایکٹ ، وکلا، صحافیوں اور انسانی حقوق کارکنان کے خلاف کارروائی ، آزادی اظہار پر قدغن نامنظور نامنظور ، ایمان مزاری اور ہادی بخش چٹھہ کو رہا کرو ، صحافت اور شہری آزادیوں پر حملے بند کیے جائیں کی نعرے بازی بھی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی ہادی علی چٹھہ پیکا ایکٹ شرکا نے کے خلاف خلاف ا کے تحت
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس