نیب نے گڈو بیراج منصوبے میں بدعنوانی کیخلاف زیر التوا تحقیقات کی خبروں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
قومی احتساب بیورو (نیب) نے گڈو بیراج کی مرمت اور بحالی کے منصوبے میں مبینہ مالی بدعنوانی کیخلاف زیر التوا تحقیقات کی خبروں کی تردید کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیب سکھر نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ بعض میڈیا ذرائع پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نیب سکھر نے سکھر یا گڈو بیراج کی مرمت اور بحالی کے منصوبے میں مبینہ مالی بدعنوانی کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں واضح طور پر وضاحت کی جاتی ہے کہ نیب سکھر میں اس معاملے پر ایسی کوئی انکوائری یا تحقیقات زیرِ التوا نہیں ہے۔
ادارے نے کہا کہ ایک شکایت موصول ہوئی تھی، جسے ہمارے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مزید ضروری کارروائی کے لیے چیف سیکریٹری سندھ کے دفتر میں قائم ’احتساب سہولت سیل‘ (AFC) کو بھیج دیا گیا ہے۔
ہم شفافیت کے اصولوں اور قانون کے مطابق عوام کو کسی بھی نئی پیش رفت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔