پشاور ہائیکورٹ کا تیراہ متاثرین کیلئے فنڈز جاری کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
—فائل فوٹو
پشاور ہائی کورٹ نے وادیٔ تیراہ آپریشن سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران تیراہ متاثرین کے لیے فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں سوال اٹھایا کہ حکومت نے آپریشن کی اجازت اسمبلی سے لی ہے یا نہیں؟
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب میں بتایا کہ وفاقی حکومت نے آپریشن کی اجازت نہیں دی، صوبائی حکومت نے بھی کسی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی۔
پشاور ہائی کورٹ نے متاثرین کو امداد کی فراہمی سے متعلق رپورٹ 7 دن میں طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ تیراہ متاثرین کے لیے فنڈز جاری کریں تاکہ وہاں لوگوں کے لیے آسانی پیدا ہو۔
پشاور ہائی کورٹ نے وادیٔ تیراہ کے مشیران اور سیکریٹری محکمۂ ریلیف کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پشاور ہائی کورٹ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔