بسنت صرف لاہور میں دوسرے شہروں میں کیوں نہیں۔۔؟ شہری لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں پورے صوبے کے بجائے صرف لاہور میں بسنت منانے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی سرپرستی میں بسنت منانے کے لیے قانون بنایا گیا ہے اور حکومتی مشینری صرف لاہور میں بسنت منانے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر شہروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وکیل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور عوام کا پیسہ صرف ایک شہر میں بسنت فیسٹیول پر خرچ کیا جا رہا ہے، لہٰذا حکومت کو بلا تفریق پورے صوبے میں بسنت فیسٹیول کے لیے اقدامات کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا اور سپیشل سیکرٹری ہوم کو تین فروری کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر بھی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ گانے نک دا کوکا میں فحاشی یا کوئی قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں، تاہم حکومت نے بلاجواز اسے فحش گانوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر والی پتنگیں اڑانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جو غیر ضروری ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کا تو معلوم نہیں، لیکن میں خود یہ گانا گا سکتا ہوں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کی آواز تو ویسے بھی کافی سریلی ہے جبکہ پابندی صرف فحش گانوں پر لگائی گئی ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں درخواستوں پر 2 فروری تک جواب طلب کر لیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.