شیعہ علماء کونسل کے رہنماء مولانا اکبر حسین زاہدی سے فلسطین اور بورڈ آف پیس سے متعلق خصوصی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا اکبر زاہدی نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بنائی گئی "بورڈ آف پیس" میں اسلامی ممالک کی شمولیت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود فلسطینی عوام پر ظلم میں اسرائیل کے برابر کا شریک ہے۔ امریکہ نے ناجائز ریاست اسرائیل کو تحفظ دیا اور فلسطینی عوام پر ظلم و ستم میں اسکی مدد کی۔ تو اسکی بنائی گئی "بورڈ آف پیس" پر کیسے اعتبار کریں؟ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی جارحیت کا واضح طور پا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںمولانا اکبر حسین زاہدی شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا تعلق گلگت بلتستان کے شہر نگر سے ہے۔ وہ کوئٹہ کے علمدار روڈ پر واقع جامعہ امام صادق علیہ السلام کے معلم بھی ہیں۔ مولانا اکبر حسین زاہدی کا شمار اتحاد بین المسلمین، امن و امان اور ہم آہنگی کو فروغ دینے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ معاشرتی مسائل کے حل میں بھی فعال کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا اکبر زاہدی نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بنائی گئی "بورڈ آف پیس" میں اسلامی ممالک کی شمولیت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود فلسطینی عوام پر ظلم میں اسرائیل کے برابر کا شریک ہے۔ امریکہ نے ناجائز ریاست اسرائیل کو تحفظ دیا اور فلسطینی عوام پر ظلم و ستم میں اسکی مدد کی۔ تو اسکی بنائی گئی "بورڈ آف پیس" پر کیسے اعتبار کریں؟
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی جارحیت کا واضح طور پا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دیا، اس ملک میں بانی پاکستان کے افکار کی نفی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے "بورڈ آف پیس" میں فلسطین کی عدم نمائندگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بورڈ فلسطین میں امن نہیں لائے گا۔ مولانا اکبر زاہدی نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے حکمران ناجائز ریاست اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسیاں نرم کریں گے، تو انہیں عوام کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا ہوگا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام پر ظلم امریکی صدر ٹرمپ ناجائز ریاست مولانا اکبر بورڈ آف پیس نے امریکی اظہار کیا انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔