بلوچستان: حملے ناکام، دہشتگرد ہلاک: 3خودکش بمبار بھی شامل، 15 جوان، 18 شہری شہید
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
کوئٹہ‘ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نمائندہ خصوصی + اپنے سٹاف رپورٹر سے) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے خلاف صبح سے جاری جاری آپریشن میں جہنم واصل ہونے والے دہشتگردوں کی مصدقہ تعداد 92 ہو گئی۔ اس سے قبل پچھلے دو دن میں پنجگور اور شعبان میں41 دہشت گرد مارے گئے تھے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی بربریت سفاک ہندوستانی پراکسی دہشتگردوں نے 11 معصوم غریب بلوچ شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا۔ یہ تعداد پہلے پانچ معصوم شہریوں کی تھی۔ شہید ہونے والوں میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ ان تمام کا تعلق بلوچستان سے ہے جو محنت مزدوری کیلئے گوادر آئے تھے۔ اس گھناؤنے واقعہ میں ملوث تمام دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے ان گھناؤنے واقعات کے خلاف گوادر کے غیور عوام میں شدید غم وغصہ۔ گردو نواح کے علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے ممکنہ ٹھکانوں کے خلاف مزید آپریشن جاری۔ غریب مزدوروں پر یہ حملہ واضح کرتا ہے کہ فتنہ الہندوستان بھارتی ایماء پر بلوچستان کی ترقی اورخوشحالی کے خلاف سرگرم ہے۔ 12 مقامات پر فتنۃ الہندوستان کے حملے ناکام بنائے گئے۔ بلوچستان میں شہید 9 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی۔ لواحقین سے ملاقات کے موقع پر سرفراز بگٹی آبدیدہ ہو گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہمارے شہداء کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی، بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کا جرات اور عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔ شہید رسول کریمؐ کے ساتھ اٹھیں گے۔ یہ عظیم قربانی ہے۔ شہداء کے لواحقین سے وعدہ ہے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ بلوچستان کے عوام اور سکیورٹی فورسز نہایت بہادر اور باہمت ہیں، جوانوں نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی۔ پوری قوم ان کو سلام پیش کرتی ہے۔ امن پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے پولیس اور سی ٹی ڈی کے فوری اور مؤثر ردعمل پر بہادر جوانوں کو شاباش دی۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بروقت رسپانس قابل ستائش ہے۔ ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ہم آخری دہشت گرد تک پیچھا جاری رکھیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سپانسرڈ دشہت گردوں نے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں دہشت گرد کارروائیاں کیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 15 جوان اور 18 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ‘ مستونگ‘ نوشکی‘ دالبندین‘ خاران‘ گوادر‘ پنجگور‘ تمپ‘ پسنی میں حملے کئے۔ گوادر اور فاران میں خواتین‘ بچوں اور مزدوروں سمیت 18 بے گناہ شہریوں کو شہید کیا گیا۔ دو روز میں مارے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی۔ بہادر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو فوری جواب دیا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ حملوں کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے پیچھے بھارت ہے۔ حملوں میں ملوث کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑیں گے۔ ایک ایک دہشت گرد کا پیچھا کریں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان بہت بہادر ہیں کہ اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو پہلے بھی شکست دی اب بھی دیں گے۔ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملہ کیا جو بھی دہشتگرد آیا سکیورٹی فورسز نے اسے ڈھونڈ کر مارا دنیا جانتی ہے۔ پاک فوج‘ ایف سی اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ بھارت منصوبہ سازی میں دہشت گردوں کا مددگار ہے۔ دنیا کو پتہ ہونا چاہئے جو ملک دہشت گردی کروا رہا ہے وہ بھارت ہے بھارت نے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ دہشتگردوں کو ڈھونڈ کر مارا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ 10 حملے بھی ہمارا مورال کم نہ عزم کمزور کر سکتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ یہ قابل تحسین ہے۔ آرمی ‘ ایف سی سمیت سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائیکی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا مشکور ہوں۔ گوادر میں ایک بلوچ فیملی کی عورتوں اور بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔ گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی بربریت سفاک ہندوستانی پراکسی دہشتگردوں نے 11 معصوم غریب بلوچ شہریوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے شہید کر دیا۔ یہ تعداد پہلے پانچ معصوم شہریوں کی تھی۔ جن میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شامل تھے۔ شہید ہونے والوں میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ ان تمام کا تعلق بلوچستان سے ہے جو محنت مزدوری کیلئے گوادر آئے تھے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورحملے ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ محسن نقوی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک ملانے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ وزیر داخلہ نے حملے ناکام بناتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا بہادر سپوتوں نے جان دے کر بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ محسن نقوی قوم کو اپنے بہادر بیٹوں پر ناز ہے۔ محسن نقوی جام شہادت نوش کرنے والے جوان قوم کے ہیرو ہیں۔ شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کو بری طرح ناکام بنانے اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کو شاباش دی ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر میں 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے منظم حملوں کو ناکام بنانے اور 37 دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف آپریشنز میں بھارتی پشت پناہی میں سرکردہ دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے پر ارض وطن کے محافظوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے آپریشنز کے دوران وطن عزیز کی حفاظت کو اپنی جان پر فوقیت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے دس فرض شناس سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداکے درجات کی بلندی اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر و استقامت کی دعا کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداپر فخر ہے۔ دہشت گردی کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ارض وطن کی حفاظت کے غیر متزلزل عزم میں مجھ سمیت پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ صدر آصف زرداری اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سپیکر ایاز صادق نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے کہا دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردی نیٹ ورک کی کمر توڑ دی۔ شہید اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا۔ صدر نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ عزم ہے کہ بلوچستان کے امن، شہریوں کے تحفظ اور قومی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ،ریاست بیرونی سرپرستی میں سرگرم دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف پوری قوت اور یکجہتی کے ساتھ کارروائی جاری رکھے گی۔ برطانیہ نے بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ برطانوی ہائی کمشن نے بیان میں کہا کہ برطانیہ دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں امن و سلامتی کیلئے پاکستان کے ساتھ ہیں۔پنجاب سے بلوچستان جانے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کے مطابق بلوچستان جانے والی شاہراہ براستہ فورٹ منرو اور تونسہ موسیٰ خیل روڈ بند کر دی گئی۔ مسافر ڈی جی خان کے راستے بلوچستان نہیں جا سکتے۔ ٹریفک روک دی اور ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل کر دی گئی۔فورسز نے دہشت گردوں کی کوئٹہ کے ریڈ زون میں انٹری کی کوشش ناکام بنا دی۔ دہشت گردوں نے بارود سے بھری کار ریڈ زون میں لے جانے کی کوشش کی۔ حملہ آور نے ہاکی چوک پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی فتنہ الہندوستان کے بلوچستان کے مختلف کو خراج تحسین پیش سکیورٹی فورسز نے پر سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو دہشت گردوں کی دہشتگردوں کے بلوچستان میں ناکام بنانے نے بلوچستان سرفراز بگٹی حملے ناکام علاقوں میں گوادر میں گرد حملوں کرنے والے نے کہا کہ گردوں کے کو ناکام کے مطابق کے خلاف جائے گا کے ساتھ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔