Jasarat News:
2026-06-03@00:00:15 GMT

جینے دو کراچی مارچ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتحال نے یہاں کے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو سخت مایوسی اور اضطراب کا شکار کردیا ہے۔ بنیادی سہولتوں کے فقدان اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے صاف محسوس ہورہا ہے، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت شہر کوتباہ وبرباد کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ شہر کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس شہر کو کوئی’’اون‘‘ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومتی نااہلی و مجرمانہ غفلت، سانحہ گل پلازہ، ڈمپر و ٹینکر سے ہونے والی ہلاکتوں، اسٹریٹ کرائمز، انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی اور کراچی کے عوام کے دیگر مسائل کے حوالے سے اتوار کے روز شاہراہ فیصل پر ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ منعقد کرکے جماعت ِ اسلامی نے ایک بار پھر کراچی کے حق میں آواز بلند کی ہے اور14 فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنا دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا بجا ہے کہ سندھ سالٹ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن سمیت شہری ادارے با اختیار شہری حکومت کے حوالے کرنا ہوں گے اور یہ کہ کراچی کو آئین کے تحت با اختیار شہری حکومت دی جائے جس میں سارے ادارے اس کے ماتحت ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت ِ اسلامی کا یہ مارچ عوامی احساسات وجذبات کا ترجمان ہے، یہ مارچ سندھ حکومت کے خلاف محض ایک احتجاج نہیں بلکہ ان کے لیے نوشتۂ دیوار ہے، حکومت کو کراچی کے لاکھوں عوام کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری