26 نومبر احتجاج کیس، سہیل آفریدی و دیگر کیخلاف چالان جمع نہ کروانے پر عدالت کا اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ پولیس اور سہیل آفریدی کا معاملہ ہے مجھے چالان چاہیے، میری طرف سے پولیس گرفتار کرے یا جو مرضی کرے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، جنید اکبر ودیگر کا چالان جمع نہ کروانے پر تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس پر سماعت کی، عدالت نے سہیل آفریدی ودیگر کیخلاف چالان جمع نہ کروانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر بتائے کہ اس نے ابھی تک چالان مکمل کیوں نہیں کرایا۔ جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ پولیس اور سہیل آفریدی کا معاملہ ہے مجھے چالان چاہیے، میری طرف سے پولیس گرفتار کرے یا جو مرضی کرے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے، سہیل آفریدی و دیگر کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔