ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ ملک دشمن تکفیری عناصر ایک ناسور بن چکے ہیں، حکومت بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتی، تکفیری دہشتگردوں کو حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے، اسلام آباد دہشتگردی کا واقعہ انتظامیہ کی نااہلی ہے، سانحہ ترلائی کے واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام ترلائی خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے احتجاجی ریلی

اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے خلاف امام بارگاہ ابوالفضل العباس سے چوک کمہاراں والا تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء نے دہشتگردی کے خلاف نعرے بازی کی۔ ریلی کی قیادت ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے قائمقام آرگنائزر انجینئر سخاوت علی سیال، ضلعی صدر عون رضا انجم ایڈووکیٹ، سید اسد عباس بخاری، مولانا مجاہد حسین جعفری اور مولانا غلام جعفر انصاری نے کی۔ ریلی میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئے، دہشت گردی کے خلاف نعرے بازی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا کہ ملک دشمن تکفیری عناصر ایک ناسور بن چکے ہیں، حکومت بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں اپنی نااہلی نہیں چھپا سکتی، تکفیری دہشت گردوں کو حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے، اسلام آباد دہشتگردی کا واقعہ انتظامیہ کی نااہلی ہے، سانحہ ترلائی کے واقعے میں ملوث دہشتگردوں کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کیا جائے، اگر حکومت نے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا تو ہر امام بارگاہ کے باہر دھرنے دیں گے۔ احتجاجی ریلی میں شیعہ علماء کونسل ملتان کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا سید تقی گردیزی، مولانا غدیر شیرازی، سید آصف گردیزی، جواد رضا جعفری، حسنین رضا، رانا فیضان الحسینی حسن رضا حیدری، حسن رضا حسینی سمیت دیگر شریک تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلام آباد

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار