ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی صدارت پاکستان کے لیے عالمی ڈیجیٹل شراکت داری کا نیا باب
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان عالمی ڈیجیٹل شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجیز میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان نے کویت میں پانچویں جنرل اسمبلی کے دوران 'ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او)' کی صدارت سنبھال لی۔ اس اجلاس میں 16 رکن ممالک کے سینئر حکام ایشیا، افریقہ اور یورپ سے شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل تعاون، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی سی او ایک عالمی فورم ہے جو ممبر ممالک میں ڈیجیٹل معیشت، انفراسٹرکچر اور ڈیٹا گورننس کو فروغ دیتا ہے، ڈی سی او میں پاکستان کی قیادت عالمی ڈیجیٹل پالیسی میں ملک کی ساکھ مضبوط کرے گی۔
شزہ فاظمہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے ڈی سی او کی صدارت قبول کرنا اعزاز کے ساتھ مشترکہ ذمہ داری کا بھی احساس دلاتا ہے، ہم ڈی سی او کے تعاون اور ڈیجیٹل شعبے میں شراکت اور مستقبل میں متحد ہو کر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان عالمی ڈیجیٹل فورمز میں اپنی قیادت اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی ڈیجیٹل ڈی سی او
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔