امریکی خاتون عہدیدار کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و تحفظ پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تعاون اور خطے میں امن و تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
ڈپٹی وزیراعظم نے خطے میں امن و تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اعلیٰ سطحی مشاورت کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی زیر صدارت او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس
اسحاق ڈار نے تعلقات میں موجود حالیہ مثبت پیشرفت کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے لیے مسلسل رابطے ضروری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار امریکی چارج ڈی افیئرز نٹالی بیکر ڈپٹی وزیراعظم وزیرخارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ڈپٹی وزیراعظم
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔