Daily Sub News:
2026-07-24@08:30:51 GMT

آئی سی سی آئی میں ماحولیاتی خطرات پر آگاہی سیشن کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

آئی سی سی آئی میں ماحولیاتی خطرات پر آگاہی سیشن کا انعقاد

آئی سی سی آئی میں ماحولیاتی خطرات پر آگاہی سیشن کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 13 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز) پاکستان گرین ٹاسک فورس کے چیئرمین ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ وطنِ عزیز میں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں بے لگام اضافے کو کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو شدید ماحولیاتی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی)میں ماحولیاتی خطرات کے موضوع پر منعقدہ ایک آگاہی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر جمال ناصر نے جنگلات کی کٹائی کی خطرناک عالمی شرح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دنیا ہر چند سیکنڈ میں فٹ بال کے میدان کے برابر جنگلات کھو رہی ہے جبکہ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کا تناسب اس سے کئی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ 5 فیصد سے بھی کم ہے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر تجویز کردہ سطح سے بہت کم ہے، جس سے ملک کو موسمیاتی آفات سے بہت زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ماحولیاتی آلودگی سے قومی معیشت کو تقریبا 38 ملین امریکی ڈالر کا سالانہ معاشی ہو رہا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی انحطاط سے نمٹنے کے لیے فوری اور مستقل اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے بیداری بڑھانے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں حصہ ڈالنے میں نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیموں کے فعال کردار کو سراہا۔اپنے استقبالیہ خطاب میں، صدر آئی سی سی آئی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا خطرہ نہیں ہے بلکہ موجودہ دور کی حقیقت ہے جو براہ راست سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، توانائی کی لاگت میں اضافہ، زرعی پیداوار میں کمی، اور مجموعی کاروباری استحکام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ آئی سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، انہوں نے اعلان کیا کہ چیمبر گرین کاروباری طریقوں، قابل تجدید توانائی کو اپنانے، توانائی کی بچت کے اقدامات، اور شجرکاری مہم میں شرکت کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی سی سی آئی متعلقہ حکومتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اسٹیک ہولڈرز کو حساس بنایا جا سکے اور کاروباری برادری کے اندر ماحولیاتی ذمہ دارانہ طرز عمل کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

آئی سی سی آئی کے سابق صدر میاں اکرم فرید نے کہا کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن یہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے بڑے عالمی آلودگی پھیلانے والوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور پاکستان جیسے کمزور ممالک کی مالی اور تکنیکی مدد کریں۔رائزنگ پاکستان موومنٹ کی چیف آرگنائزر محترمہ رخشندہ تسنیم نے ماحولیاتی انحطاط کو ایک سنگین اور بڑھتا ہوا چیلنج قرار دیا جسے کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سول سوسائٹی کو موسمیاتی خطرات سے مثر طریقے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔آئی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، پریزیڈنٹ پبلک ایڈ محترمہ حسنہ خٹک، ڈاکٹر ثنا اللہ، علی چیمہ، اعجاز رحمان، مبشر احمد، جاوید عاصم، عبدالمتین ہاشمی، عظیم کاکڑ، اور صبا حمید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے آگاہی سیشن کے انعقاد پر آئی سی سی آئی کی قیادت کی تعریف کی اور مستقبل میں ماحولیاتی اقدامات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔آئی سی سی آئی کے نائب صدر عرفان چوہدری نے چیمبر کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اقدامات پر روشنی ڈالی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں مسلسل تعاون کا عہد کیا۔ آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبر ذوالقرنین عباسی اور سینئر ممبر اسرار مشوانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراہلیہ کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں ،اسلام آبادہائیکورٹ کا شوہر کو حکم اہلیہ کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں ،اسلام آبادہائیکورٹ کا شوہر کو حکم اسلام آباد میں سیکیورٹی کے پیش نظر مساجد کے باہر گداگری اور اشیا کی فروخت پر پابندی ایل این جی کی قیمت میں اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کی منظوری دیدی حکومت کا عمران خان کو اڈیالہ سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ اقوام متحدہ کا بڑا فیصلہ، طالبان پابندیوں کی نگرانی میں ایک سال کی توسیع کردی گئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: میں ماحولیاتی آگاہی سیشن

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف