مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جیل حکام کسی کی فرمائش پر نہیں چل سکتے، تاہم اگر کسی قیدی کو مخصوص ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ سے علاج کرانے کا مطالبہ ہے تو اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت علاج کے طبی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتی، یہ فیصلہ متعلقہ میڈیکل اتھارٹیز نے کرنا ہوتا ہے۔
نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کسی مخصوص ڈاکٹر یا نجی اسپتال سے علاج کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ یہ نکتہ سپریم کورٹ میں اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک عدالت اس حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کرتی، حکومت اپنی جانب سے کوئی خصوصی اقدام نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس نوعیت کی مثال قائم کی گئی تو پھر ہر زیر حراست شخص اپنی مرضی کے ڈاکٹر یا اسپتال کا مطالبہ کرے گا، جس سے ایک نیا نظیر (پریسیڈنٹ) بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بڑا سرکاری ادارہ موجود ہے اور وہاں متعلقہ شعبے کے سربراہ ماہر ڈاکٹر موجود ہیں، جن کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کو کسی معاملے پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج ڈاکٹروں نے کرنا ہوتا ہے، حکومت کا کام طبی فیصلے کرنا نہیں۔
سینیٹ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سیاست کرنے کے الزامات لگائے گئے، تاہم ان کے بقول زیر حراست رہنما کو تمام ضروری سہولیات اور طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو مزید شکایت ہے تو وہ قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ کہا کہ اگر نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔