وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جیل حکام کسی کی فرمائش پر نہیں چل سکتے، تاہم اگر کسی قیدی کو مخصوص ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ سے علاج کرانے کا مطالبہ ہے تو اس کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت علاج کے طبی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتی، یہ فیصلہ متعلقہ میڈیکل اتھارٹیز نے کرنا ہوتا ہے۔

نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کسی مخصوص ڈاکٹر یا نجی اسپتال سے علاج کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ یہ نکتہ سپریم کورٹ میں اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک عدالت اس حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کرتی، حکومت اپنی جانب سے کوئی خصوصی اقدام نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس نوعیت کی مثال قائم کی گئی تو پھر ہر زیر حراست شخص اپنی مرضی کے ڈاکٹر یا اسپتال کا مطالبہ کرے گا، جس سے ایک نیا نظیر (پریسیڈنٹ) بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بڑا سرکاری ادارہ موجود ہے اور وہاں متعلقہ شعبے کے سربراہ ماہر ڈاکٹر موجود ہیں، جن کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کو کسی معاملے پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج ڈاکٹروں نے کرنا ہوتا ہے، حکومت کا کام طبی فیصلے کرنا نہیں۔

سینیٹ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سیاست کرنے کے الزامات لگائے گئے، تاہم ان کے بقول زیر حراست رہنما کو تمام ضروری سہولیات اور طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اور کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو مزید شکایت ہے تو وہ قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ کہا کہ اگر نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا