data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک کے سینئر مرکزی نائب صدر محمد خالد قادری نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر توانائی و پیداوار گیس اور بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کا خاتمہ کروائیں ،گیس جو کہ شہریوں کو ملتی نہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں عوام کو ذہنی مریض بنایا جارہا ہے عوام ہوٹلوں سے کھانا لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ بل اور ٹیکسز وہی ہیں۔ گیس کے بلز میں ترتیب وار ماہانہ فکسڈ چارجز 600، 1000اور 1500روپے جبکہ بجلی کہ بلوں میں 1000روپے فکسڈ چارجز جبرا مسلط کردیے گئے ہیں۔ گیس کی پیداوار ہونے کے باوجود شہریوں کو گیس سپلائی نہیں کی جاتی، اسی طرح موسم سرما میں بھی بجلی کی 8سے 10گھنٹے لوڈ شیڈنگ الگ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ الگ ہے۔ نااہل کرپٹ افسران کی سزا عوام بھگت رہے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں عوام کے ساتھ ہونیوالے اس ظلم اور خاموش تماشائی ہیں اسکا حساب لگائیں تو اربوں روپے ماہانہ بنتا ہے۔ حکومت ٹیکسز لگا کر عوام کا خون نچوڑ رہی ہے ملک کا قرضہ بڑھتا جارہا ہے، اپنے شاہانہ اخراجات پورے کیے جارہے ہیں، بسنت کے نام پر حکومت کا کروڑوں روپے برباد کر دیا گیا جو ہلاکتیں ہوئیں جو زخمی ہوئے انکا ذمہ دار کون ہے؟ محمد خالد قادری نے وکلا برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی مفاد میں گیس اور بجلی کے بلوں میں جبرا فکسڈ چارجز کے خاتمے کیلئے عدالت سے رجوع کریں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فکسڈ چارجز بلوں میں

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی