لاہور:کمرشل عمارتوں کے پلانز ریسکیو 1122 کی کلیئرنس سے مشروط
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-08-15
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کثیر المنزلہ عمارتوں میں حالیہ آتشزدگی کے واقعات کے بعد (ایل ڈی اے) نے بلڈنگ پلانز کی منظوری کے لیے سخت نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ ٹاؤن پلاننگ و آرکیٹیکچر ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملٹی اسٹوری کمرشل عمارتوں کے نقشے اب ریسکیو1122 سے فائر سیفٹی کلیئرنس کے بغیر منظور نہیں کیے جائیں گے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فائر سیفٹی این او سی کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور ریسکیو 1122 کی منظوری کے بغیر کسی بھی کمرشل عمارت کے پلان کی منظوری غیر قانونی تصور ہوگی۔ تمام ملٹی اسٹوری کمرشل بلڈنگ پلانز ویری فکیشن کیلئے متعلقہ ریسکیو حکام کو بھجوائے جائیں گے۔ ایل ڈی اے نے بیسمنٹ ریمپ سے متعلق بھی اہم فیصلے کیے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت بیسمنٹ انٹری اور ایگزٹ کیلئے تین آپشنز دیے گئے ہیں جن میں فرنٹ سائیڈ سے سنگل یا علیحدہ ریمپ، فرنٹ سے انٹری اور ریئر یا سائیڈ سے ایگزٹ، جبکہ ریئر یا سائیڈ اسپیس میں بیسمنٹ کی صورت میں علیحدہ انٹری اور ایگزٹ ریمپ لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بیسمنٹ تک رسائی کیلئے مکینیکل لفٹ صرف اضافی سہولت کے طور پر ہوگی، لازمی ریمپ کے بغیر صرف لفٹ کے ذریعے رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اعلامیے کے مطابق ہر 100 فٹ کے فاصلے پر ایمرجنسی سیڑھیاں بنانا لازمی ہوگا جو پلاٹ کی اوپن سائیڈ پر قائم کی جائیں گی۔ سینٹر میں اسٹیئر کیس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی اور سیڑھیوں کا مکمل طور پر وینٹی لیٹڈ ہونا اور براہ راست ایگزٹ سے منسلک ہونا ضروری ہوگا۔ ایل ڈی اے نے اپنے تمام افسران اور عملے کو ہدایت کی ہے کہ اسکروٹنی، منظوری اور ریویڑن کے مراحل میں ان نئے احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بلند و بالا عمارتوں میں فائر سیفٹی کو مؤثر بنانا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔