طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کی 50 رکنی کابینہ تشکیل دینے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی 13ویں قومی پارلیمنٹ کے انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نئی حکومت کی تشکیل کی جانب پیش رفت کر رہی ہے۔
پارٹی چیئرمین طارق رحمان کی قیادت میں حکومت سازی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ منگل کی صبح نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ نے حلف اٹھایا، جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری آج سہ پہر جاتیہ سنگسد کے ساؤتھ پلازہ میں منعقد ہونے والی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور
کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق نئی وفاقی کابینہ 50 اراکین پر مشتمل ہوگی، جن میں وزیرِ اعظم کے علاوہ 25 وفاقی وزراء اور 24 وزرائے مملکت شامل ہوں گے۔
پارٹی کے سینیئر رہنماؤں میں مرزا فخر الاسلام عالمگیر، امیر خسرو محمود چودھری، صلاح الدین احمد، اقبال حسن محمود (ٹوکو)، میجر (ر) حفیظ الدین احمد، اے زیڈ ایم زاہد حسین، عبدالاوال منٹو، قاضی شاہ مفظل حسین کیکوباد، میزان الرحمٰن مینو، نتائی رائے چودھری، خندکر عبدالمقتدر، عارف الحق چودھری، ظہیر الدین سواپن، محمد امین الرشید، خلیل الرحمٰن، افروزہ خانم (ریتا)، شاہد الدین چودھری (اینی)، اسداللہ حبیب دلو، محمد اسد الزمان، ذکریا طاہر، دیپن دیوان، اے این ایم احسن الحق میلن، سردار سخاوت حسین (بکول)، فقیر محبوب انام (سواپن) اور شیخ ربیع الاسلام کو مکمل وفاقی وزراء کے طور پر شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: طارق رحمان کی سیاسی سرگرمیاں تیز، این سی پی کنوینر ناہید اسلام سے ملاقات
حکام کے مطابق محمد امین الرشید اور خلیل الرحمٰن ٹیکنوکریٹ کوٹہ کے تحت کابینہ میں شامل ہوں گے۔
وزرائے مملکت کے طور پر ایم رشید الزمان ملت، انندیہ اسلام امیت، محمد شریفل عالم، شما عبید اسلام، سلطان صلاح الدین ٹوکو، قیصر کمال، فرہاد حسین آزاد، امین الحق، میر محمد ہلال الدین، حبیب الرشید، محمد راجب احسن، محمد عبدالباری، میر شاہ عالم، جنید ساقی، اشراق حسین، فرزانہ شرمین، شیخ فرید الاسلام، نورالحق، یاسر خان چودھری، اے کے اقبال حسین، ایم اے محیث، احمد سہیل منظور، بوبی حجاز اور علی نواز محمود خیام کے نام سامنے آئے ہیں۔
کئی سیاستدانوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں کابینہ ڈویژن کی جانب سے حلف برداری کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے رکن دیپن دیوان اور عارف الحق چودھری نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا
سابق فٹبالر امین الحق، جو ڈھاکا 16 کی نشست پر انتخاب ہار گئے تھے، ٹیکنوکریٹ وزیرِ مملکت کے طور پر حلف اٹھائیں گے، جو بی این پی کی جانب سے غیر منتخب ماہرین کو بھی شامل کرنے کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ نوجوان سیاستدان انندیہ اسلام امیت کو بھی وزیرِ مملکت کے طور پر مدعو کیا گیا ہے تاہم ان کا قلمدان تاحال سامنے نہیں آیا۔
کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں بین الاقوامی شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے اور بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کی شرکت کی توقع ہے، جبکہ مالدیپ، برطانیہ، ترکیہ، پاکستان، نیپال اور سری لنکا کے وفود پہلے ہی ڈھاکا پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کر رہے ہیں۔
بی این پی نے 12 فروری کے انتخابات میں دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کی، جس کے بعد طارق رحمان نئی حکومت کی قیادت کے لیے مضبوط پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ تاہم ارکانِ پارلیمنٹ نے آئینی اصلاحات پر عمل درآمد کونسل کے رکن کی حیثیت سے حلف نہیں اٹھایا، جو جاری آئینی تبدیلیوں سے متعلق ایک اہم ادارہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بی این پی حکومت ڈھاکا طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این پی حکومت ڈھاکا طارق رحمان کی بی این پی کے طور پر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔