بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت اختیار کی، جوابی کارروائی ہمارا حق ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارت نے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت اختیار کی، جوابی کارروائی ہمارا حق ہے، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے تحقیقات کی پیشکش نہ مان کر جارحیت کا راستہ اختیار کیا، جس پر جوابی کارروائی کرنا پاکستان کا حق ہے۔
ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ 7 مئی کی رات بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا مظاہرہ کیا اور بھارت نے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا، بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا ہے اور جواب میں پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، پاکستان ہرممکن صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے، پاکستان بھارت کی جارحیت کی مذمت کرتا ہے بھارت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے اور پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کررہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے متعدد شہروں میں ڈرون حملے کیے گئے ۔کیا کوئی ملک کسی بھی ملک کو شوشل میڈیا بیانات کے اوپر کسی ملک پر حملہ کرنے کی اجازت دیتا ہے ؟۔ ہم دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کو اس معاملے پر جواب دہ ٹھہرائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔ بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ ہم بھارت کے سیکرٹری خارجہ کے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھارتی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے ۔ وزیر اعظم نے مکمل انکوائری کا کہا لیکن بھارت نے جارحیت کا راستہ لیا ۔ ممبئی اور پٹھان کوٹ کی تحقیقات بھارت کی وجہ سے نہیں کی جا سکیں۔ کلبھوشن یادیو بھارت کی انتہا پسندی کی مثال ہے ۔ ہندو انتہا پسندی میں 40 پاکستانی شہید ہوئے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیلم جہلم ہائڈرو پاور پراجیکٹ کے کچھ حصے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہوئے ۔ پاکستان زرعی ملک ہے۔ بھارتی فیصلے کے اثرات کل کروڑوں لوگوں پر ہوں گے۔ یہ بھارت ہی تھا جو جموں و کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ لے کر گیا ۔ بھارت مسلسل چھوٹے ہمسایہ ممالک کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن کے 77 ڈرونز زمین بوس پاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن کے 77 ڈرونز زمین بوس کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں، قوم مطمئن رہے، بھارت کو جواب دینے کیلئے 200 فیصد تیار ہیں، وزیر دفاع پاک فوج کا دندان شکن جواب، بھارتی فوج پسپا، سفید جھنڈا لہرایا بھارت کی ایل او سی پر گولہ باری، 5شہری شہید، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے کئی پوسٹیں تباہ ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کریں گے جس سے ہمیں فائدہ نہ ہو، امریکی نائب صدر کا دو ٹوک بیان پاک فوج نے بھارت کے مزید 6 اسرائیلی ساختہ ڈرون مار گرائےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوابی کارروائی بھارت نے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب