ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیلئے امریکی طیاروں نے کونسا راستہ اپنایا؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیلئے امریکی طیاروں نے کونسا راستہ اپنایا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز
امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے مشن کے دوران بھارت کی فضائی حدود استعمال کیں، جس پر جنوبی ایشیا میں سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، گوام میں واقع امریکی اڈے سے اُڑان بھرنے والے یہ بمبار طیارے انڈمان سی کے راستے بھارت کے وسطی علاقوں — بالخصوص مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا — کے اوپر سے گزرے اور بحیرہ عرب کے ذریعے ایرانی سرحد کی جانب بڑھے۔ اس فضائی راہداری کو استعمال کرتے ہوئے طیاروں نے ایران میں واقع حساس ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطہ پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تناؤ کا شکار ہے، اور اب بھارت کی فضائی حدود کے استعمال سے جنوبی ایشیا کو ممکنہ طور پر ایک نئے جنگی دلدل میں دھکیلے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے امریکی جنگی مشن کے لیے اپنی فضائی راہداری کی اجازت دینا خطے کی سٹریٹجک توازن کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ پاکستان سمیت کئی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران چائنا میڈیا گروپ کی شاندار نمائش ایران نے اسرائیل پر خیبر شکن میزائل داغنے کی ویڈیو جاری کردی ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد آئی اے ای اے کا ہنگامی اجلاس کا طلب خضدار میں دہشت گردوں کا حملہ، قبائلی رہنما میر عطا مینگل جاں ، بیٹے سمیت 4 زخمی ایران پر امریکی حملہ، پاکستان کیخلاف فیک نیوز اور پروپیگینڈامہم شروع امریکی حملے کے خلاف پورے قوت سے مزاحمت کریں گے، ایران کا اعلان اب یا تو امن آئے گا یا ایران کیلئے سانحہ ہوگا، امریکی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایٹمی تنصیبات تنصیبات پر طیاروں نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔