Daily Mumtaz:
2026-07-24@10:52:28 GMT

شکست خوردہ بھارت خطرناک راستے پر گامزن۔

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

شکست خوردہ بھارت خطرناک راستے پر گامزن۔

تحریر:راشدعباسی

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سکیورٹی فورسزکے قافلے پر خود کش حملےمیں 13 اہلکارجام شہادت نوش کرگئے جب کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 14 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی منصوبہ بندی اور سرپرستی میں فتنہ الخوارج نے قافلے کو نشانہ بنایا،دہشت گردی کایہ المناک واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا جب فیلڈمارشل سیدعاصم منیر نے کراچی میں پاکستان نیوی کی پاسنگ آئوٹ پریڈ سے خطاب کے دوران قوم کویہ نوید سنائی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے قریب ہے،واقعہ کے بعد فیلڈ مارشل پشاورپہنچے جہاں انہیں کورہیڈکوارٹرزمیں سکیورٹی صورت حال پر بریفنگ دی گئی،انہوں نے بنوں گیریژن میں حالیہ دہشت گرد حملے کے شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت اور سی ایم ایچ بنوں میں زیرِ علاج زخمی جوانوں کی عیادت بھی کی،انہوں نے کہاکہ قوم دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یکجا اور پرعزم ہے، اس ناسور کو ہر صورت اور ہر شکل میں مکمل طور پر ختم کیا جائے گا،انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیاکہ دہشت گردی کے تمام سہولت کاروں، مددگاروں اور مجرموں کو بلا امتیاز اور ہر قیمت پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ،پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کی طویل تاریخ ہے ،حالیہ عرصے میں بلوچستان میں جعفرایکسریس اور خضدرمیں سکول بس پر حملوں میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے ، پاکستان بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کے ناقابل تردیدثبوت بھار ت کو فراہم کرنے کے علاوہ کئی بار دنیاکے سامنے بھی پیش کرچکاہے،2009میں دہشت گردی کے ثبوتوں سے بھرا ڈوزیئر شرم الشیخ میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کو پیش کیا، 2015 میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں پر مبنی ڈوزیئر اقوام متحدہ کے حوالے کیا گیا ،2016 میں دنیا نے بلوچستان میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا بیوقوفانہ چہرہ کلبھوشن یادو کی شکل میںد یکھا جوکہ بھارتی بحریہ کا حاضرسروس افسر تھا، جس نے بھارتی حکومت کے احکام پر انجام دیے گئے اپنے تمام گھناؤنے جرائم اور دہشت گردوں کی فنڈنگ کا اعتراف کیا، 2019 میں ایک مرتبہ پھر بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں سے بھرا ڈوزیئر اقوام متحدہ کے حوالے کیا گیا،بھارت صرف پاکستان میں ہی دہشت گردی میں ملوث نہیں ملک دنیادیگرممالک میں بھی اس کی دہشت گردی بے نقاب ہوچکی ہے، کینیڈا، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سکھ رہنماؤں کےقتل کی منصوبہ بندی اور مخالف آوازوں کو دبانےکے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بین الاقوامی سطح پر بھی دہشت گردی میں ملوث ہے،دنیا میں امن کے قیام کے لئے ریاستوں کے درمیان باہمی احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور داخلی و خارجی خودمختاری کی اہمیت مسلمہ ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت، جو ایک بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے، مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو نہ صرف خطے کے امن کے لئے خطرہ ہیں بلکہ اس کی پالیسیوں سے یہ واضح ہورہاہے کہ وہ دہشت گردی کو بطورہتھیار استعمال کر رہا ہےاور بھارتی ریاستی ادارے منظم طریقے سے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں، ستم طریفی یہ ہے کہ عالمی برادری تمام ترحقائق سے آگاہ ہونے کے باوجودبھارتی دہشت گردی کے معاملے پر مصلحت کاشکارہے جس کی بڑی وجہ ان کے مفادات ہیں،اس صورت حال میں بھارت کی طرف سے دہشت گردی کو بطورریاستی پالیسی استعمال کرنے کی پالیسی عالمی امن کے لئے خطرہ بنتی جارہی ہے،لہذاعالمی برادری کو اس حقیقت کاادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر بھارت کی طرف سے دہشت گردی کو بطورریاستی پالیسی استعمال کرنے کاسلسلہ بندنہ کرایاگیااور اس کے آگے بند نہ باندھ گیاکہ توآج مفادات کی بنیادپرمجرمانہ خاموشی اختیارکرنے والے بھی کسی بڑے نقصان سے محفوظ نہیں رہیں گے، لہذامفادات کی بجائے انسانیت کے تحفظ کو مقدم رکھاجا ناچاہئے، عالمی برادری یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان سمیت بیرون ممالک میں بھارتی دہشت گردی کاسختی سے نوٹس لیں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھی اس پر سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، امن کے دعویدار ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنے مذموم عزائم سے باز آئے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے، اس میں کوئی شک وشبہ نہیںکہپاکستانی سکیورٹی فورسزدہشت گردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت اوراہلیت رکھتی ہیں،ماضی میں کئے گئے  آپریشن رَدُ الفَساد ، آپریشن ضربِ عضب، آپریشن کوہِ سفید،آپریشن راہِ نجات،آپریشن راہِ راست اور آپریشن راہ حق پاکستانی فورسز کی اہلیت ،صلاحیت اور مہارت کا ثبوت ہے،ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی اس ناسورکے خلاف کامیابی کے حوالے سے فیلڈمارشل کے بیان کی تائیدہے لیکن ایک ایسے وقت میں جب بھارت روایتی جنگ اور پھرسفارتی محاذ پر پاکستان سے بری طرح شکست کھانے کے بعد اپنے زخم چاٹنے پر مجبورہے اوربے بسی کے عالم میں انتقام کی آگ میں جل رہاہے ،وہ پاکستان میں دہشت گردی کوپھرسے بڑھاوادے سکتاہے،یقیناً ہماری بہادر سکیورٹی فورسز دشمن کی ہرچال پرنظررکھے ہوئے ہیںلیکن اس ضمن میں عوام کو بھی زیادہ محتاط رہنے اور اپنی فورسزکے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ضرورت ہے ، ریاستی ادارے، خصوصاً افواج پاکستان، پولیس اور خفیہ ایجنسیاںدہشت گردی کے ناسور کے خلاف قربانیاں دے رہی ہیں تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ صرف سکیورٹی ادارے ہی اس جنگ کو تنہا نہیں جیت سکتے۔ اس کے لیے عوام کا تعاون کلیدی اہمیت رکھتا ہے،دہشت گردی ایک اجتماعی مسئلہ ہے، جسے اجتماعی شعور اور تعاون سے ہی شکست دی جا سکتی ہے ، ہمیں بطور قوم متحد ہوکر یہ پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت اور نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں، جب تک ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرے گا، تب تک پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،خاص طور پر بھارتی دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک پرامن اور محفوظ پاکستان فراہم کیا جا سکے، امیدہے کہ عوام کے تعاون اور سکیورٹی فورسزکی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان جلد ایک بارپھر امن کا گہوارہ بنے گا جو پائیدارمعاشی ترقی اور خوشحالی کے ہدف کے حصول کے لئے ناگزیرہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی دہشت گردی کے دہشت گردی کو میں بھارت بھارت کی کے خلاف کے لئے امن کے

پڑھیں:

ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔

Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.

Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.

— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار