کراچی:

کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گرنے والی رہائشی عمارت کے ملبے تلے دبنے والوں میں ایک نو بیاہتا جوڑا بھی شامل ہے۔

مکینوں کے مطابق ملبے تلے دبے اس جوڑے میں شوہر کا نام نیرول جبکہ بیوی کا نام منیشا ہے۔ یہ نوجوان جوڑا محض پانچ ماہ قبل ہی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا تھا۔ ان کی زندگی کے نئے سفر کا یہ المناک حادثے نے علاقہ مکینوں کو سوگوار چھوڑ گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی اسی واقعے میں ایک اور شادی شدہ جوڑے کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس میں دلہا چیتن ملبے تلے دبا ہوا تھا جبکہ اس کی اہلیہ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

یہ خبر بھی پڑھیے: لیاری میں عمارت گرنے کا المناک واقعہ: 16 لاشیں نکال لی گئیں، ریسکیو آپریشن تاحال جاری

ریسکیو ذرائع کے مطابق عمارت کے ملبے سے اب تک 16 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ خواتین سمیت 12 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے۔ تاہم، نیرول اور منیشا سمیت کئی افراد کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل ہونے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ عمارت کے ملبے سے مزید افراد کے نکالے جانے کی امید ہے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان ملبے تلے کے ملبے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی