بھارت کیساتھ ملٹری لیول سیز فائر جاری ہے مگر بھارتی سیاسی قیادت سے یہ برداشت نہیں ہورہا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
نائب وزیرعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ سیز فائر جاری ہے مگر بھارتی سیاسی قیادت سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی۔
کوالا لمپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت فوجی سطح پر سیزفائر مکمل طور پر مؤثر ہے، مگر نئی دہلی کی سیاسی قیادت اس حقیقت کو برداشت نہیں کر پا رہی۔
اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے دارالحکومت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سخت اقتصادی حالات میں کامیابی سے ٹیک آف کیا ہے اور ہمارا اگلا ہدف دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ "جی 20" میں شمولیت ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز رویہ اختیار کیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نہ تو پاکستان کا پانی روک سکتا ہے اور نہ ہی دریاؤں کا قدرتی بہاؤ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی اقدام پر مؤثر ردعمل دیتے ہوئے بھارت کی ایئرلائنز کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کر دی تھیں اور اب عالمی سطح پر بھارت تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کو مؤثر جواب دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستانی فضائیہ نے دشمن کے 6 جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں 4 جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ بھارت نے جان بوجھ کر اپنے 2 میزائل سکھ آبادی میں گرا کر اپنی ہی قوم کو نقصان پہنچایا، تاہم بین الاقوامی برادری نے بھارتی مؤقف کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر صبح سوا 8 بجے امریکی وزیر خارجہ نے فون پر اطلاع دی کہ بھارت سیزفائر چاہتا ہے۔ جنگ چھیڑنے والا بھی بھارت تھا اور ختم کرنے کی درخواست بھی اس نے ہی کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کی افواج اب اپنی دفاعی پوزیشنز تبدیل کر چکی ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام ملک کے دفاع کی مضبوط ڈھال ہے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کابل میں چائے پینے اور دہشت گردوں کے لیے بارڈر کھولنے جیسی پالیسیوں نے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کرتے ہوئے کہ بھارت نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔