رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت خستہ حال ہونے سے متعلق ایس بی سی اے افسران کو 2022ء سے علم تھا، معلوم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے افسران نے اقدامات نہیں کیے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے لیاری بفدادی میں 5 منزلہ رہائشی عمارت کے زمین بوس ہونے کے معاملے میں پولیس نے ایس بی سی اے کے 6 ڈائریکٹرز اور مالک سمیت 14 افراد کو قصوروار قرار دیا۔ پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کلثوم سہتو کی عدالت میں عمارت گرنے سے 27 افراد کے مرنے ہونے کے مقدمے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔ اطلاعی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ لوکل گورنمنٹ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ سندھ کے افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق 1986ء میں مالک نے 2 حصوں پر مشتمل گراؤنڈ پلس 5 کی عمارت تعمیر کی تھی، کافی عرصے سے دونوں حصے خستہ حال اور ناقابل رہائش تھے، 20 فلیٹ پر مشتمل ایک حصہ ایس بی سی اے کی غفلت کے باعث زمین بوس ہوا ہے، اس حادثے میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد جان سے گئے اور 4 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت خستہ حال ہونے سے متعلق ایس بی سی اے افسران کو 2022ء سے علم تھا، معلوم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے افسران نے اقدامات نہیں کیے، افسران نے غفلت، لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، جس سے عمارت زمین بوس ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے افسران ہونے کے

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
  • ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور