لیاری سانحہ، رہائشی عمارت زمین بوس ہونے کے معاملے میں 14 افراد قصوروار قرار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت خستہ حال ہونے سے متعلق ایس بی سی اے افسران کو 2022ء سے علم تھا، معلوم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے افسران نے اقدامات نہیں کیے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے لیاری بفدادی میں 5 منزلہ رہائشی عمارت کے زمین بوس ہونے کے معاملے میں پولیس نے ایس بی سی اے کے 6 ڈائریکٹرز اور مالک سمیت 14 افراد کو قصوروار قرار دیا۔ پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کلثوم سہتو کی عدالت میں عمارت گرنے سے 27 افراد کے مرنے ہونے کے مقدمے کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔ اطلاعی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ لوکل گورنمنٹ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ سندھ کے افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق 1986ء میں مالک نے 2 حصوں پر مشتمل گراؤنڈ پلس 5 کی عمارت تعمیر کی تھی، کافی عرصے سے دونوں حصے خستہ حال اور ناقابل رہائش تھے، 20 فلیٹ پر مشتمل ایک حصہ ایس بی سی اے کی غفلت کے باعث زمین بوس ہوا ہے، اس حادثے میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد جان سے گئے اور 4 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت خستہ حال ہونے سے متعلق ایس بی سی اے افسران کو 2022ء سے علم تھا، معلوم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے افسران نے اقدامات نہیں کیے، افسران نے غفلت، لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، جس سے عمارت زمین بوس ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے افسران ہونے کے
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔